خطبات محمود (جلد 20) — Page 379
خطبات محمود ۳۷۹ سال ۱۹۳۹ء تلوار اپنی میان سے نکال لی اور یہ کہتے ہوئے مجلس سے نکل گیا کہ اگر آپ لوگ اس ذلت کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں تو آپ کی مرضی ہے لیکن میری اسلامی غیرت تو اس کی اجازت نہیں دیتی اور وہ وہاں سے سیدھا عیسائی لشکر کی طرف گیا اور اکیلے ہی دشمن کے لشکر پر حملہ کر دیا اور لڑتے لڑتے مارا گیا مگر تم سمجھتے ہو کہ جو کچھ مارا گیا وہ اس کا جسم تھا اس کی روح نہیں ماری گئی۔اس کی رُوح اب تک ہمارے دلوں اور ہمارے دماغوں میں زندہ ہے۔آج بھی کوئی مسلمان جب تاریخ کے اندھیرے کونے سے اس واقعہ کو نکالے گا اس کے دل سے اس نوجوان کے لئے بے اختیار دُعا نکلے گی اور وہ کہے گا یہ آخری مسلمان تھا جو سپین میں موجود تھا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جب خدا تعالیٰ نے اسلام کو حیات تازہ بخشی۔اس نشاۃ ثانیہ میں ایسے لوگوں کی روحیں پھر ظاہر ہوں گی۔پھر ہسپانیہ محمد رسول اللہ کے جھنڈے کے نیچے آئے گا اور اس دفعہ اس طرح آئے گا کہ پھر نہیں نکل سکے گا۔غرض مومن ڈرپوک نہیں ہوا کرتا ، مومن بُزدل نہیں ہوا کرتا۔ہم نے اگر پچھلے مظالم برداشت کئے تو اس لئے نہیں کہ ہمیں جانیں دینی نہیں آتی تھیں۔اگر خدا کا قانون ہمیں کی اجازت دیتا تو ہم قادیان اور اس کے مقدس مقامات کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں خوشی سے دے دیتے اور کبھی ان غدار حکام کے مظالم برداشت نہ کرتے جو ہمارے ہی نہیں حکومت کے بھی مجرم تھے مگر خدا کا یہی حکم تھا کہ ہم خاموش رہیں۔پس ہم خاموش رہے۔اس نے ہمیں کہا تی کہ جو قانون میں نے تمہارے لئے بنایا ہوا ہے اس کی پابندی کرو اور ہم نے اس کی پابندی کی۔پس ایک موقع ایسا بھی آتا ہے جب قومی غیرت بھی یہی کہتی ہے کہ قربان ہو جاؤ مگر خدا کہتا ہے نہیں تم خاموش رہو۔کیا ہی عجیب نظارہ ہمیں نظر آتا ہے جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلح حدیبیہ کی کی مجلس میں تشریف رکھتے تھے اور کفار صلح کے لئے شرائط پیش کر رہے تھے۔صحابہ اپنے دلوں میں ایک آگ لئے بیٹھے تھے اور ان کے سینے ان مظالم کی تپش سے جل رہے تھے جو کفار کی طرف سے بیس سال سے ان پر کئے جارہے تھے ان کی تلواریں میانوں سے باہر نکلی پڑتی تھیں اور اور وہ چاہتے تھے کہ کسی طرح موقع آئے تو ان مظالم کا جو انہوں نے اسلام پر کئے ہیں بدلہ لیا جائے کی