خطبات محمود (جلد 20) — Page 35
خطبات محمود ۳۵ سال ۱۹۳۹ء ہوتا ہے کہ ان کے پیچھے مستقل عملہ ہو جو رات دن کام کرتا ر ہے تا کہ تسلسل قائم رہے۔مگر انہوں نے میری بات کو اچھی طرح نہ سمجھا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے کام میں خرابی پیدا ہوگئی۔قادیان میں اگر نیشنل لیگ کور کا کام کچھ لمبا چلا ہے تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ یہاں ایک مستقل آدمی مقرر ہے جس کا فرض یہی ہے کہ وہ نیشنل لیگ کو ر کا کام کرے اور چونکہ مستقل طور پر یہ کام اس کے سپرد ہے اس لئے لازماً اسے اپنی توجہ اُس کام کی طرف رکھنی پڑتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہاں نیشنل لیگ کور زیادہ کامیاب رہی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہر جگہ مستقل آدمی نہیں رکھے جاسکتے لیکن اگر بعض سرکل اور دائرے مقرر کر دیے جاتے اور ان میں نیشنل لیگ کے آدمی دورہ کرتے رہتے تو یقیناً ان کی کوششوں کے بہت زیادہ شاندار نتائج نکلتے مگر انہوں نے چونکہ اس پہلو کو نظر انداز کر دیا اور اپنی قربانی اور ایثار پر حد سے زیادہ انحصار کر لیا اِس لئے ان کے کام میں خرابی واقع ہوگئی۔حالانکہ بعض چیزیں اخلاص سے نہیں بلکہ نظام سے تعلق رکھتی ہیں اور جب تک نظام کی پابندی نہ ہو اُس وقت تک کامیابی نہیں ہوتی۔تو مذہبی تعلیموں کی اشاعت کے لئے خصوصاً عیسوی نقش پر آنے والی اور جمالی رنگ اپنے اندر رکھنے والی تعلیموں کے لئے ایک لمبے عرصہ تک مسلسل اور متواتر کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ تسلسل تبھی قائم رہ سکتا ہے جب آئندہ اولادوں کی اصلاح کی جائے۔جس شخص کے دل میں اخلاص پیدا ہو جائے وہ تو اپنی موت تک اس راستہ کو نہیں چھوڑتا اور چاہے اُس کی کچ گردن پر تلوار رکھ دی جائے وہ اپنی اولاد کی اصلاح کے خیال سے غافل نہیں رہتا۔ہاں جب مر جائے تو پھر وہ اپنی اولاد کی اصلاح کا ذمہ دار نہیں۔ذمہ داری صرف زندگی تک عائد ہوتی ہے۔ورنہ جس دن کو ئی شخص مر جائے اسی دن وہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاتا ہے اور تو اور حضرت عیسی علیہ السلام جو خدا تعالیٰ کے ایک نبی ہیں اُن سے بھی قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ کیا تو نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کا شریک ٹھہرایا کی جائے تو حضرت عیسی علیہ السلام یہی جواب دیں گے کہ حضور جب تک میں زندہ رہا لوگوں کا ذمہ دار رہا لیکن جب آپ نے مجھے وفات دے دی تو پھر مجھے کیا پتہ کہ لوگ کیا کر رہے ہیں ہے اب دیکھو ! حضرت عیسی علیہ السلام خدا تعالیٰ کے ایک نبی ہیں مگر موت کے بعد