خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 299

خطبات محمود ۲۹۹ سال ۱۹۳۹ء کسی جگہ بھی اپنی فوج کی تنظیم کا موقع نہیں ملا تھا اس لئے فوج میں بدنظمی پیدا ہوگئی اور ابتری کی حالت میں نہ وہ جرمن والوں کا مقابلہ کر سکے اور نہ اپنی جانوں کو بچا سکے۔اس دن مغربی حکومتوں کو پہلی دفعہ یہ معلوم ہوا کہ روس کا سٹیم رولر محض انسانوں کے گوشت کا ایک ٹھیکرالے تھا تی اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں تھی اور نہ کوئی سامان اس کے پاس موجود تھا چنانچہ سب سے پہلے روس کو شکست ہوئی حالانکہ روس کا ملک اتنا وسیع ہے کہ مؤرخین لکھتے ہیں جو قوم روس کی پر حملہ کرتی ہے وہ ضرور تباہ ہو کر رہتی ہے۔چنانچہ جب روس میں بالشوزم کی تحریک اٹھی۔اُس وقت انگریزوں اور فرانسیسیوں اور یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ والوں نے وہاں بغاوتیں کرائیں، فوجیں بھیجیں ، روپیہ بھیجا، سامان بھیجا اور ہر لحاظ سے لوگوں کی مدد کی مگر روس کی اس گرمی ہوئی حالت کے باوجود وہ فوجیں سو سو دو دو سو میل بڑھ کر تھک کر واپس آ گئیں مگر کسی کو یہ ہمت نہ ہوئی کہ وہ ایک دن بھی ملک میں حکومت کر سکے۔نپولین جو فرانس کا بادشاہ تھا اس کی طاقت ٹوٹنے کی بھی یہی وجہ تھی کہ وہ روس کے اندر گھس گیا مگر یہ ملک اتنا وسیع تھا کہ وہ اپنی تمام طاقت اس میں ضائع کر بیٹھا۔تو گزشتہ جنگ عظیم میں روس نہایت ادنیٰ حالت میں تھا نہ اس کی فوجیں اچھی تھیں نہ اس کے جرنیل اچھے تھے ، نہ اس کے پاس اچھا تو پخا نہ تھا اور نہ سامانِ جنگ با افراط اس کے پاس موجود تھا مگر اس تنظیم کے ماتحت جو لینن نے شروع کی ان میں ایسا تغیر پیدا ہوا کہ آج جنگی سامانوں میں سب سے زیادہ اہمیت ہوائی جہازوں کو دی جاتی ہے اور یہ تسلیم شدہ امر ہے کہ سب سے زیادہ ہوائی جہاز آجکل روس کے پاس ہی موجود ہیں۔اب یا تو وہ زمانہ تھا کہ روس کے پاس ہوائی جہاز تو کیا تو پیں بھی بہت کم تھیں اور جو تھیں وہ بہت رہی اور ناقص مگر آج روسیوں کے جنگی ہوائی جہاز تعداد میں دُنیا کی تمام حکومتوں کے ہوائی جہازوں سے زیادہ ہیں اور دوسرا سامان بھی اُن کے پاس نہایت اعلیٰ درجہ کا ہے۔تھوڑے ہی دن ہوئے میں نے ایک لسٹ دیکھی جس میں یہ ذکر تھا کہ مختلف ممالک کے پاس کیا کیا جنگی سامان ہے۔اس لسٹ کے دیکھنے سے مجھے معلوم ہوا کہ روس کے پاس اس وقت دس ہزار ہوائی جنگی جہاز ہیں، جرمنی کے پاس سات ہزار ہیں، انگلستان کے پاس چھ ہزار ہیں ، فرانس کے پاس ساڑھے پانچ ہزار ہیں اور اٹلی کے پاس پانچ ہزار۔گو یا اٹلی سے روس کی