خطبات محمود (جلد 20) — Page 297
خطبات محمود ۲۹۷ سال ۱۹۳۹ء پھر اٹلی میں انقلاب پیدا ہوا اور مسولینی نے اسی رنگ کا نظام اپنے ملک میں جاری کیا اور اس کی کے بعد جرمنی میں ہٹلر کے ذریعہ یہ نظام قائم ہوا۔اس تغیر اور اس انقلاب میں ہمیں دو قسم کی متضاد تحریکیں نظر آتی ہیں اور گو طریق عمل ایک ہی ہے لیکن تحریکیں متضاد ہیں۔روس کی تحریک بالکل اور رنگ کی ہے اور مسولینی اور ہٹلر کی تحریک بالکل اور رنگ کی ہے لیکن یہ قاعدہ دونوں کے اندر کام کرتا نظر آتا ہے کہ ایک بالا نظام جو کچھ فیصلہ کرے افراد کو اس فیصلہ کی پابندی کرنی چاہئے۔اس طرز سے ان ملکوں میں جو تغیر پیدا ہوا اور ان کی طاقت اور قوت میں جو اضافہ ہوا وہ عیاں اور بالکل ظاہر ہے جسے ہر شخص دیکھ سکتا ہے۔روس ایک ایسا ملک تھا جس میں تعلیم بالکل ہی نہیں تھی اور ایک مطلق العنان حکومت اس جگہ قائم تھی لیکن اس نظام کے ماتحت وہاں تعلیم اتنی عام ہو گئی ہے کہ اب قریباً قریباً نا خواندہ لوگ وہاں نظر آنے مُشکل ہو گئے ہیں اور وہی روس جو ایک زمانہ میں بلحاظ نظام نہایت کمزور اور بودہ سمجھا جاتا تھا آج اس کی قوت سے بڑی بڑی حکومتیں مرعوب ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ روس پہلے بھی ایک بہت بڑی طاقت تھی۔کیونکہ یہ ملک بہت بڑا ہے اس میں آبادی بہت زیادہ ہے اور اس میں بسنے والی جنگی قومیں ہیں۔اسی وجہ سے ہر قوم کی یہ خواہش ہو ا کرتی تھی کہ وہ روس سے دوستانہ تعلقات پیدا کرے مگر ان میں نظام بالکل نہیں تھا۔چنانچہ گزشتہ جنگ عظیم میں روسیوں کی دو دو تین تین لاکھ فوج کا بعض دفعہ جرمنی کے پچاس ساٹھ ہزار سپاہیوں نے مقابلہ کیا ہے اور اُنہوں نے اپنے کی تو پخانہ کی کثرت کی وجہ سے روسیوں کو بھاگ جانے پر مجبور کیا ہے۔چنانچہ مجھے یاد ہے جب جنگ عظیم شروع ہوئی اور انگلستان اور روس کی حکومتیں بھی فرانس کے ساتھ شامل ہو گئیں تو سول اینڈ ملٹری گزٹ اور دوسرے انگریزی اخبارات میں بڑے بڑے موٹے حروف میں لکھا ہوتا تھا کہ Russian Steam Roller Coming یعنی روس کا سڑکوں کو کوٹنے کی والا انجن آ رہا ہے۔گویا انہیں روسیوں کی فوج کی کثرت اور سپاہیوں کی بہادری پر اس قدر اعتماد تھا کہ وہ سمجھتے تھے جس طرح سڑک کو کوٹنے والے انجن کے سامنے پتھر روڑ انہیں ٹھہرتا اور پس جاتا ہے اُسی طرح جرمن فوجوں کو روسی فوجیں دباتی چلی جائیں گی۔یہ ہیڈ نگ برابر کئی دنوں تک اخبارات میں چھپتا رہا۔یہاں تک کہ وہ سٹیم رولر جرمنی کی سرحد پر پہنچ گیا اور