خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 293

خطبات محمود ۲۹۳ سال ۱۹۳۹ء ہم نے یہاں اپنے مقدمات میں دفاع کی اجازت دی تھی اور گو ہم نے غلطی نہیں کی بلکہ کی مصلحتاً ایسا کیا تھا مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ اس پر ہمارا کتنا روپیہ خرچ ہوتا رہا ہے۔کسی میں سو کسی میں دو سو اور کسی میں چار سو روپیہ خرچ ہوتا رہا ہے۔ہر مقدمہ میں کئی کئی گواہ پیش ہوتے ہیں کئی کئی پیشیاں ہوتی ہیں لیکن اگر ہم دفاع پیش نہ کرتے تو ایک بھی پیسہ خرچ نہ ہوتا۔پیش ہوتے اور کہہ دیتے کہ جو کرنا ہے کر لو۔گاندھی جی نے بھی یہی کیا اور اس سے سارے ملک میں شور مچ گیا۔عام لوگوں نے خیال کیا کہ بائیکاٹ کے لئے ایسا کیا ہے حالانکہ ان کی غرض یہ تھی کہ چھوٹے بڑے اور امیر وغریب کا کوئی سوال نہ پیدا ہو اور روپیہ نہ خرچ ہو۔ہزاروں لاکھوں مقدمات تھے اگر روپیہ خرچ کیا جاتا تو بے شمار خرچ ہو جاتا اور پھر ملک میں بیداری بھی پیدا نہ ہوتی۔اسی طرح کھدر پوشی ہے۔یہ بھی ایسی ہی باتوں میں سے ایک ہے۔کوئی کہے کہ اگر کھڈر مفید ہے اور یہ بھی سادہ کپڑوں کی تحریک کا حصہ ہے تو تم اس تحریک پر کیوں عمل نہیں کرتے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان کا قانون اور ہے اور ہماری شریعت اور ہے۔گاندھی جی نے وہ تحریک کی جوان کے خیال کے مطابق ملک کے لئے مفید ہو سکتی تھی اور میں نے جو تحریک کی وہ اسلام اور کی سلسلہ کے فائدہ کو مد نظر رکھ کر کی ہے۔اس لئے ہماری تجاویز میں فرق لازمی ہے۔میرے مد نظر اسلام کی شوکت اور سلسلہ کی ترقی ہے اور گاندھی جی کے نزدیک ہندوستان کی ترقی ہے۔دونوں کا علاج علیحدہ علیحدہ ہے۔میں نے ایک کھانا کھانے ، سادہ کپڑے پہنے اور ہاتھ سے محنت کرنے کی جو تحریک کی ہے یہ کوئی چھوٹی باتیں نہیں ہیں۔یہ اپنے اندر اس قدر فوائد رکھتی ہیں کہ ہر ایک پر اگر مفصل تقریر کی جائے تو سینکڑوں گھنٹے کی جاسکتی ہے اور اگر جماعت ان کو کی مد نظر رکھے تو قریب ترین عرصہ میں حیرت انگیز انقلاب پیدا ہوسکتا ہے اور جماعت اس پر جتنا عمل کرتی ہے اس کے اثرات بھی مشاہدہ کر رہی ہے۔مجھے کئی رپورٹیں آتی رہتی ہیں کہ دوسرے لوگ بھی اسے اختیار کر رہے ہیں ، کئی غیر احمدی امراء کے گھرانوں کی عورتیں ان تحریکات کو اپنے ہاں رائج کر رہی ہیں اور اسے بہت پسند کرتی ہیں۔پچھلے دنوں جب چیف جسٹس صاحب یہاں تشریف لائے تو انہوں نے اس تحریک کا ذکر