خطبات محمود (جلد 20) — Page 282
خطبات محمود ۲۸۲ سال ۱۹۳۹ء قدر نہیں کرتے وہ ثواب سے محروم رکھے جاتے ہیں۔یہ دن بڑی برکتوں اور رحمتوں کے دن ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل ہماری جماعت کو حاصل ہیں۔دوسری قوموں کو یہ قر بانیوں اور ثواب کے موقعے حاصل نہیں۔صرف ہماری جماعت ہی ہے جسے مالی ، جانی، وقتی ، ملی اور علمی قر بانیوں کے پے در پے مواقع ملتے چلے جاتے ہیں اور دراصل یہی وہ خزانے ہیں جن کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مسیح موعود خزانے لٹائے گا مگر لوگ قبول نہیں کریں گے۔2 اس پیشگوئی سے مراد مسیح موعود کی جماعت نہیں بلکہ عام لوگ ہیں اور مطلب کی یہ ہے کہ وہ خزانے ایسے نہیں جن سے روٹی ملے بلکہ ایسے ہوں گے جو لوگوں کو روحانی برکات سے مالا مال کر دیں گے اور جو مالی اور جانی قربانی کا لوگوں سے مطالبہ کریں گے مگر لوگ انہیں قبول نہیں کریں گے۔یہاں لوگوں سے مراد آپ کے مرید نہیں بلکہ غیر لوگ ہیں اور رسول کریمی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ ان کو رڈ کر دیں گے مگر وہ لوگ جو آپ کا حصہ اور آپ کی جماعت میں شامل ہونے کی وجہ سے آپ کا جزو ہوں گے وہ قبول کریں گے اور ہر قسم کی قربانیوں میں حصہ لے کر روحانی خزانوں سے مالا مال ہو جائیں گے۔غرض یہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کی رحمت کے نزول کے ایام میں ان دنوں کی قدر کرو اور انہیں رائیگاں کھو کر اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ خلعت کی بے حرمتی مت کرو۔اگر آج ان ثواب کے موقعوں سے تم فائدہ نہیں اُٹھاؤ گے تو یا درکھو یہ زمانہ گزر جائے گا اور پھر نہ ثواب کے یہ مواقع پیدا ہوں گے اور نہ لوگوں کو قُر بانیوں کی ضرورت محسوس ہو گی۔ہر قسم کے سامان حکومت کی طرف سے میسر ہوں گے، مدر سے جاری ہوں گے ، یو نیورسٹیاں قائم ہوں گی اور ہر ان پڑھ شخص کو تعلیم دلانے کا حکومت خودا انتظام کر رہی ہوگی۔اُس وقت اگر تم کسی کو کہو گے کہ آؤ میں تمہیں پرائمری تک تعلیم دلا دوں تو وہ کہے گا تم بیوقوف ہوئے ہو جب سرکاری طور پر ایم اے کی کی تعلیم حاصل کرنے کا انتظام ہے تو مجھے تمہارا ممنونِ احسان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ مگر اب کی کیسا مبارک زمانہ ہے کہ اگر کوئی شخص صرف دستخط کرنا جانتا ہے تو و ہ دوسرے کو دستخط کرنا سکھا کر ہی ثواب حاصل کر سکتا ہے اور جسے اُردو کے دو حرف آتے ہیں وہ دوسرے کو دوحرف پڑھا کر ہی معلّم بن سکتا ہے اور معلم کوئی معمولی عہدہ نہیں بلکہ بہت بڑا عہدہ ہے لیکن آج یہ عہدہ صرف