خطبات محمود (جلد 20) — Page 254
خطبات محمود ۲۵۴ سال ۱۹۳۹ء ہمارا مقامی افسریوں کہتا ہے مگر تھوڑے دنوں کے بعد اسے اقرار کرنا پڑا کہ وہ غلطی پر تھی۔میں منالی میں تھا کہ مجھے گورنر کی چٹھی ملی کہ میں آپ سے باتیں کرنا چاہتا ہوں آپ مجھے ملیں۔میں میلا اور متواتر چار گھنٹہ گفتگو ہوئی مجھے انہوں نے کہا کہ آپ ناراض کیوں ہیں؟ اور کس سے آپ کو شکایت ہے ؟ میں نے کہا کہ پہلے تو آپ سے شکایت ہے۔انہیں یہ امید نہ تھی کہ میں کہوں گا آپ سے شکایت ہے۔اس کے بعد گفتگو ہوتی رہی اور جب ہوتے ہوتے میں نے ڈپٹی کمشنر کے متعلق واقعات پیش کئے تو کئی جگہ انہیں تسلیم کرنا پڑا کہ اس نے غلطی کی ہے۔میں نے کہا یہ کی عجیب بات ہے کہ پہلے تو آپ اس کی ہر بات تسلیم کرتے گئے اور اب مانتے ہیں کہ بعض دفعہ اسے غلط فہمی ہو گئی اور بعض دفعہ حکومت بالا نے اُسے مجبور کر دیا۔اڑھائی سال کے بعد اس ضلع میں ایک اور ڈپٹی کمشنر مسٹر انز آئے ان کی یہ خواہش تھی کہ میں گورنمنٹ سے جماعت احمدیہ کی کی صلح کراؤں۔وہ قادیان میں آئے اور مجھ سے ملے۔بڑی لمبی چوڑی گفتگو ہوئی اور بعض باتیں اُن سے طے ہوئیں مثلاً ایک یہ کہ وہ پرانا ریکارڈ نکال کر دیکھیں اور فیصلہ کریں کہ جماعت احمدیہ کی غلطی تھی یا حکام ضلع کی؟ انہوں نے پہلے تو کہا تھا کہ یہ اتنا بڑا طومار ہے کہ اس کا پڑھنا مشکل ہے مگر جب میں نے کہا کہ بہر حال آپ اسے دیکھیں اور ان واقعات کے متعلق اپنی رائے قائم کریں اس کے بغیر ہماری تسلی نہیں ہوسکتی تو اُنہوں نے وعدہ کیا کہ آہستہ آہستہ وہ ان مسلوں کو پڑھیں گے۔بعض حالات کی وجہ سے ان کو جلد یہ ضلع چھوڑنا پڑا مگر ہمارے ایک ذمہ دار افسران کے جانے سے پہلے جب ان سے ملے تو انہوں نے ان سے کہا کہ میں نے اس وقت تک تین چار کیس پڑھے ہیں ان کے متعلق میری رائے یہی ہے کہ اُس وقت کے ڈپٹی کمشنر کی غلطی تھی اور آپ حق پر تھے۔افسوس ہے کہ وہ زیادہ دیر اس ضلع میں نہ ٹھہر سکے ورنہ اُنہوں نے وعدہ کیا تھا کہ میں باقی کا غذات بھی پڑھ کر اپنی رائے دوں گا۔تو سرکاری حکام نے ہی بعد میں اس وقت کے ڈپٹی کمشنر کی تردید کی مگر اُس زمانہ میں حکومت اُس کی ہر بات کو صحیح تسلیم کرتی تھی اس قسم کی غلطی کی ایک اور موٹی مثال ہے اُس وقت کی پنجاب گورنمنٹ کے بعض افسروں نے یہ مشہور کر دیا تھا کہ احمدی فساد کرتے ہیں مگر جب گورنمنٹ برطانیہ کی طرف سے اس سے دریافت کیا گیا کہ احمدیوں پر یہ الزام کس بناء پر لگایا جاتا ہے؟ تو انہوں نے نہایت صفائی