خطبات محمود (جلد 20) — Page 24
خطبات محمود ۲۴ سال ۱۹۳۹ء منہ کی کھانی پڑی اور وہ اپنی ذلت ورسوائی دیکھ کر خاموش ہو گئے۔ہمارا مطالبہ تو آریہ منظور کر ہی کی نہیں سکتے تھے اور اس طرح یہ صلح بیچ ہی میں رہ گئی اور ہم نے کہا کہ ہم اس وقت تک اس میدان کو ج نہیں چھوڑیں گے جب تک اتنے لوگوں کو واپس نہیں لے آتے۔آخر وہ جوش کے دن گزر گئے۔ہمارے مبلغ بھی واپس آگئے مگر ایک دو آدمی ہم نے اب تک وہاں رکھے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں وہاں کامیابی ہو رہی ہے۔چنانچہ کچھ ہی عرصہ ہو ا فتح پور قصبہ جو ساندھن کے پاس ہے اور پہلے سارا کا سارا مرتد ہو چکا تھا اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے مبلغوں کی تبلیغ سے پندرہ سال بعد پھر اسلام میں داخل ہو گیا ہے اور آریہ لوگ اپنا بوریا بستر وہاں سے اُٹھا کر چل دیئے ہیں۔دیکھو کتنی طاقتور قوم سے مقابلہ تھا۔اُس وقت ہندو امراء کہہ رہے تھے کہ ہم کروڑوں روپیہ اِس کام پر لگا دیں گے اور یہاں تک کہتے تھے کہ ایک ایک آدمی کے بدلے ہزار ہزار روپیہ دیں گے۔دولت اور طاقت کا سر نیچا ہوا اور مٹھی بھر جماعت کو فتح حاصل ہوئی اور یہ نتیجہ تھا اُس قربانی کا جو جماعت نے دکھائی۔اس وقت ایک قربانی کی رو تھی جو جماعت میں چل رہی تھی۔آج تک اس علاقہ میں بعض واقعات اس زمانہ کے مشہور ہیں بلکہ میرے گزشتہ سفر میں بھی بعض لوگ ملے جنہوں نے مندرجہ ذیل واقعہ کا ذکر کیا کہ وہاں ایک گاؤں سب کا سب آریہ ہو چکا تھا صرف ایک عورت مائی جمی تھی جو مرتد نہ ہوئی تھی۔اس کے لڑکے بھی آریہ ہو گئے کی تھے۔آریوں نے کہا کہ اس کا بائیکاٹ کیا جائے تو پھر یہ آریہ بنے گی۔آخر اس کا بائیکاٹ ہؤا حتی کہ اس کے لڑکوں نے اس کے حصہ کی فصل کو بھی کاٹنے سے انکار کر دیا۔اس وقت شاید چوہدری نصر اللہ خان صاحب یا خان بہادر شیخ محمد حسین صاحب ریٹائر ڈسیشن جج علی گڑھ والے وہاں انچارج تھے۔مائی جمیا ان کے پاس آئی اور کہا کہ میں نے مزدوروں سے اپنی فصل کٹوانے کی کوشش کی ہے مگر وہ بھی نہیں کاٹتے اور کہتے ہیں کہ شدھی کرواؤ تو کاٹیں گے نہیں تو کی جاؤ مولویوں سے کٹواؤ۔ہمارے آدمی بوجہ تعلیم یافتہ ہونے کے وہاں مولوی کہلاتے تھے۔اس لئے انہوں نے بطور طنز کہا کہ جاؤ مولویوں سے کٹواؤ۔ان کا خیال تھا کہ یہ لوگ اس کام میں اس کی کیا مددکرسکیں گے؟ مائی جمیا نے کہا کہ میں نے ان سے کہہ دیا ہے کہ بے شک کھیت خراب