خطبات محمود (جلد 20) — Page 22
خطبات محمود ۲۲ سال ۱۹۳۹ء کام کرنے والوں کے لئے بے شک دھنیں ہوں گی لیکن اگر ہمت اور ارادہ ہو تو مشکلا خود بخود دُور ہو جایا کرتی ہیں۔۱۹۲۳ء میں جب ملکانوں کا فتنہ شروع ہوا اُس وقت جماعت کے اندر ایک جوش پیدا ہوا اور سینکڑوں احمدیوں نے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔پھر انہوں نے وہاں جا کر تبلیغ کی اور ثواب بھی حاصل کئے مگر انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے کاروبار بھی ویسے ہی رہے جیسے پہلے تھے ، نوکریاں بھی ویسی ہی رہیں اور اس موقع پر جن لوگوں نے جی چھرایا کئی دفعہ ان کو خیال آتا ہو گا کہ کاش ہم بھی ثواب حاصل کر لیتے۔غور کرو یہ کتنا عظیم الشان کارنامہ تھا کہ ایک مٹھی بھر جماعت کا مقابلہ تمام ہندو قوم کے ساتھ تھا اور یہ کتنا شاندار نتیجہ تھا کہ جب اس جماعت کے کام کی وجہ سے ہندوؤں کے لئے مشکلات پیدا ہوئیں اور ادھر ہندو مسلم اختلاف وسیع ہونے لگا تو گاندھی جی نے برت رکھا اور کہا کہ جب تک ہندو مسلمانوں میں صلح نہ ہو میں برت نہیں کھولوں گا۔پھر وہ کیا عجیب وقت تھا کہ دہلی میں ہندوستان کے بڑے بڑے ہندو مسلم لیڈر جمع ہوئے کہ صلح کی تجویز کریں مگر جن کو بلایا گیا ان میں جماعت احمدیہ کا نام ہی نہ تھا۔یہی شیخ عبدالرحمن مصری جو اس وقت ہماری مخالفت میں حصہ لے رہے ہیں، یہ گھبرائے ہوئے میرے پاس آئے اور کہا کہ ہمارا تو نام ہی نہیں۔ان کو توجہ دلانی چاہئے۔میں نے کہا کہ مجھے تو توجہ دلانے کی ضرورت نہیں۔آپ دیکھیں گے کہ وہ خود توجہ کرنے پر مجبور ہوں گے اور دوسرے ہی روز حکیم اجمل خان صاحب اور ڈاکٹر انصاری صاحب کا تار میرے نام آیا کہ اپنے نمائندے جلد بھیجے صلح کے کام میں تاخیر ہو رہی ہے۔بات یہ ہوئی کہ جب ہند و مسلم لیڈر صلح کے لئے بیٹھے تو شردھانند صاحب نے کہا کہ لڑائی تو احمدیوں کے ساتھ جاری ہے کیونکہ تبلیغ وہی کر رہے ہیں۔یہاں اُن کے نمائندے ہی نہیں ہیں تو صلح کی بات چیت کس سے کی جائے۔کی آخر وہ لوگ جنہوں نے پہلے کبر اختیار کیا اور کہا تھا کہ احمدیوں کو بلانے کی کیا ضرورت ہے، مجبور ہو گئے کہ مجھ سے تار کے ذریعہ نمائندے بھجوانے کی درخواست کریں اور جب ہمارے نمائندے جانے لگے تو میں نے ان سے کہا کہ وہاں جو گفتگو ہوگی وہ میں ابھی سے بتا دیتا ہوں۔آریہ سماجی کہیں گے کہ چونکہ گاندھی جی نے برت رکھا ہوا ہے ہمیں چاہئے کہ ان کا برت