خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 212

خطبات محمود ۲۱۲ سال ۱۹۳۹ء کہنے کی بجائے یہ کہے کہ اے میرے رب میں تیری ہی عبادت کرداں ہاں اور تیرے کولوں ہی مردمنگدا ہاں ، تو اس وقت وہ ایک ربودگی کی حالت میں ہوگا اور جب وہ یہ کہہ رہا ہو گا کہ خدایا میں تیرے کولوں ہی مددمنگر اہاں تیرے سوا مینوں مدد دینے والا ہور کوئی نہیں ، تو خود ہی سوچ لو اس پر کتنی رقت طاری ہوگی ؟ اور کسی قدر اللہ تعالیٰ کی خشیت اس کے دل میں موجزن ہو گی لیکن اگر وہ عربی الفاظ کا مفہوم نہیں جانتا تو ایساكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اِس کے لئے ایسا ہی ہوگا جیسے پتھر اُٹھا کر کسی کو مار دیا۔پس ہر مسلمان کے لئے یہ ضروری ہے کہ اسے نماز کا ترجمہ آتا ہو ورنہ ہم نماز سے وہ فائدہ ہر گز نہیں اُٹھا سکتے جو عیسائی وغیرہ اُٹھا رہے ہیں کیونکہ وہ ترجمہ کی وجہ سے اپنی زبان میں اپنی دعاؤں کا مطلب خوب سمجھتے ہیں مگر مسلمان عربی زبان سے ناواقف ہونے کی وجہ سے نماز کے مفہوم کو نہیں سمجھ سکتے۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں نماز پڑھنے کے باوجود اتنی روحانیت نہیں ہوتی جتنی روحانیت بعض جھوٹے مذاہب کے پیروؤں میں دکھائی دیتی ہے اس لئے کہ وہ اپنی روزانہ عبادت کے کلمات ان زبانوں میں ادا کرتے ہیں جن کو وہ سمجھتے ہیں مثلاً سکھ ہیں ان کا گرنتھ ایسی زبان میں ہے جس کو وہ سمجھتے ہیں۔اب ایک سکھ جب گرنتھ کا کوئی شعر پڑھ رہا ہوتا ہے تو اس کا دل جوش اور محبت سے بھرا ہوا ہوتا ہے لیکن ایک مسلمان جو قرآن کا ترجمہ نہیں جانتا وہ بعض دفعہ عبارتوں کی عبارتیں پڑھ جاتا ہے اور اس کے دل پر کوئی اثر نہیں ہوتا بلکہ پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ کوئی منتر کر رہا ہے لیکن اگر وہ قرآن کے معنی سمجھنے لگ جائے تو اس کے اندر بھی ویسا ہی جوش پیدا ہو جائے جیسے س سکھوں اور عیسائیوں میں پایا جاتا ہے بلکہ چونکہ اس کی تعلیم زیادہ اعلیٰ ہے اس لئے اس کے اندر ان سے زیادہ جوش پیدا ہو گا ، اس کا علم ان سے زیادہ بڑھے گا اور اس کا عرفان ان کے عرفان سے بہت اعلیٰ ہوگا لیکن جب یہ معنی نہیں جانتا تو دوسرے سے اس کا علم اور عرفان کم نہیں ہوتا بلکہ ہوتا ہی نہیں۔پس دو باتوں میں سے ایک بات ہمیں ضرور کرنی پڑے گی یا تو ہمارے لئے ضروری کی ہو گا کہ ہم اپنے میں سے ہر شخص کو نماز کا ترجمہ سکھا دیں تا کہ وہ نماز کی برکات سے مستفیض ہو یا ج ہمیں اسلام کی بتائی ہوئی عربی دُعائیں اور قرآن کریم کی عبارتیں چھوڑنی پڑیں گی اور ان کی بجائے اُردو یا پنجابی میں نمازیں ڈھالنی پڑیں گی اور ہمیں کہنا پڑے گا کہ بجائے عربی کے