خطبات محمود (جلد 20) — Page 193
خطبات محمود ۱۹۳ ۱۲ سال ۱۹۳۹ء قادیان میں کوئی مرد یا عورت آن پڑھ نہ رہے کتابی علم کے ساتھ کوئی نہ کوئی پیشہ بھی سیکھنا چاہئے (فرموده ۲۱ را پریل ۱۹۳۹ء ) تشہد ، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- میں نے خدام الاحمدیہ کے متعلق جو خطبات پڑھے تھے اُن میں ایک بات میں نے یہ بیان کی تھی کہ تعلیم کو عام کیا جائے۔اس بارہ میں میں نے خدام الاحمدیہ کو کچھ عرصہ پہلے بعض ہدایات دی تھیں اور مجھے بتایا گیا ہے کہ قادیان کے دو محلوں میں کام شروع ہے مگر میں چاہتا کہ ہوں کہ یہ کام ساری قادیان میں شروع کر دیا جائے۔دو محلوں میں دو ماہ تک کام کرنے سے خدام الاحمدیہ کو اس کا تجربہ ہو چکا ہوگا اور قادیان میں اتنے پڑھے ہوئے لوگ موجود ہیں کہ اگر یہاں کے تمام ان پڑھوں کی تعلیم کا ہم انتظام کریں تو یہ کوئی مشکل کام نہیں ہو گا۔مشکل وہاں ہوتی ہے جہاں پڑھانے والے کم اور پڑھنے والے زیادہ ہوں مگر یہاں پڑھنے والے پڑھانے والوں کا دسواں حصہ ہیں۔میں نے یہاں کے ان پڑھوں کا جو اندازہ کرایا ہے اُس کی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ایک ایک ان پڑھ احمدی کو پڑھانے کے لئے نو نو آ دمی موجود ہیں اور اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ ان میں سے ایک حصہ پڑھانے کے قابل نہیں کیونکہ اُن میں بچے بھی ہیں اور نو جوان بھی جن کو پڑھانے کا تجربہ نہیں ہوتا تب بھی اس میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ ایک ایک ان پڑھ کو پڑھانے کے لئے ایک ایک آدمی بڑی آسانی سے میسر آسکتا ہے اور ایسی صورت میں کی