خطبات محمود (جلد 20) — Page 178
خطبات محمود ۱۷۸ سال ۱۹۳۹ء انسان کی طاقتیں بالکل ہی کمزور ہو جاتی ہیں اور اُس کا جسم ڈھل جاتا ہے وہ کمزور ہو جاتا ہے، بے طاقت ہو جاتا ہے تو پھر اُس کی نگاہ دُنیوی اسباب سے ہٹ کر اُن بار یک اسباب کی طرف متوجہ ہوتی ہے جو کہ اُس کی زندگی میں تغیر پیدا کرنے والے ہوتے ہیں یا کم سے کم وہ خیال کرتا ہے کہ اُن تغیرات میں ان کا دخل ہے بلکہ بعض اوقات تو وہ سمجھنے لگتا ہے کہ دُنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اُس میں انسان کا کوئی دخل ہی نہیں بلکہ ایک بالا ہستی سب کچھ انسان سے کرا رہی ہے۔اس کے مقابلہ میں روحانی نشوونما میں ایک عجیب فرق ہے۔وہ قو میں جن کے اندر روحانیت ہوتی ہے اور جو دنیا کی روحانیت کا سبق دینے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھڑی کی جاتی ہیں اُن کے اندر جوانی میں وہ چیز پیدا ہوتی ہے جو جسمانی نشوونما میں بڑھاپے میں ہوتی ہے۔ان کے اندر انکسار بڑھا ہوا ہوتا ہے اور اُن کی نگا ہیں ہمیشہ بالا ہستی کی طرف اُٹھتی ہیں اور اُن کو یقین ہوتا ہے کہ وہی اس کا رخانے کو چلانے والا ہے۔جوانی کا جوش ان کے اندر خود رائی اور خود پسندی پیدا کرنے کے بجائے خدا تعالیٰ کی محبت اور اُس کی طرف توجہ یدا کرتا ہے اور یہ ایسا نمایاں فرق ہے جو دُنیا میں ہر جگہ اور ہر زمانہ میں ہمیں نظر آتا ہے۔ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ جسمانی نشوونما میں جوانی میں انسان کی نگاہیں کس طرح اپنی جسمانی طاقتوں تک ہی محدود ہوتی ہیں اور پھر بڑھاپے کے ساتھ کس طرح دماغ میں وہ تجربہ پیدا ہوتا ہے جو بیرونی اثرات اور تاثیروں کی طرف اسے متوجہ کرتا ہے۔یہاں تک کہ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ انسان کی طاقت کچھ بھی نہیں۔تم روزانہ نوجوانوں اور بوڑھوں کو باتیں کرتے سنتے ہو۔ایک کی فریق کہتا ہے کہ میں یوں ماروں گا، کوٹوں گا ، یہ کر دوں گا وہ کر دوں گا مگر دوسرا کہتا ہے کہ ایسا نہیں کی کرنا چاہئے دُنیا میں مل کر رہنا چاہئے ، اتنا جوش نہیں دکھانا چاہئے۔ہر جگہ ، ہر گھر ، ہر خاندان ، ہر حکومت اور ہر جتھے میں یہ باتیں نظر آتی ہیں۔جوانوں کے دل میں یہ خیالات ہوتے ہیں کہ دُنیا کی میں کوئی ہمارے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتا۔بسا اوقات مقابل کی طاقتوں کو وہ حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں حالانکہ انہیں حقیقی طاقت حاصل نہیں ہوتی۔مجرم کس لئے حکومتوں سے ٹکراتے ہیں؟ اسی لئے کہ ان کی نگاہیں اپنے سے اوپر جاتی ہی نہیں نہ وہ پولیس کی پرواہ کرتے ہیں ، نہ مجسٹریٹ کی اور نہ حکومت کے دوسرے اداروں اور اُس کی فوجوں کی۔وہ جوش میں کھڑے ہو جاتے ہیں کی