خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 129

خطبات محمود ۱۲۹ سال ۱۹۳۹ء تو میری ہمشیرہ نے کسی موقع پر کھانا کھانے کے بعد کہا کہ اس وقت کچھ میٹھے کو جی چاہتا ہے۔میں کی چونکہ کھجوروں کا ان سے ذکر کر چکا تھا اِس لئے اُنہوں نے پوچھا کہ وہ کھجوریں کہاں گئیں۔اس کی پر مجھے ان کا خیال آیا اور میں نے اپنے ہمراہیوں سے پوچھا کہ وہ کھجوروں کا بکس کہاں گیا ؟ ؟ جن صاحب سے پوچھا تھا اُنہوں نے جواب دیا کہ ایک بکس تو ہمارے کمرہ میں ضرور تھا مگر چونکہ ہم قادیان سے وہ بکس نہیں لے گئے تھے اس لئے میں نے اور میرے ہمرا ہی نے وہ بکس اسباب سے الگ کر کے رکھ دیا کہ شاید کسی اور کا ہو۔میں نے انہیں بتایا کہ یہ بکس بغداد کی جماعت کی طرف سے بطور تحفہ آیا تھا اور میں نے اسباب میں رکھوا دیا تھا۔جب کمرہ ہمارا تھا اور اسباب بھی ہمارا تھا تو آپ لوگوں کو یہ کیونکر خیال ہوا کہ اسے الگ نکال کر رکھ دیں کسی اور کاج ہوگا۔آخر دوسرے کسی شخص کو یہ خیال کیونکر پیدا ہوسکتا تھا کہ وہ اپنا اسباب اُٹھا کر ہمارے کمرہ میں آکر رکھ جائے۔لوگ تو دوسروں کا اسباب اُٹھایا کرتے ہیں۔اپنا اسباب دوسرے کے گھر میں تو کوئی آکر رکھ کر جاتا نہیں۔اس پر انہوں نے کہا کہ ہم نے سمجھا کہ کسی احمدی کا بکس ہوگا۔میں نے کہا اگر یہ خیال تھا تب بھی اُسے ساتھ رکھنا چاہئے تھا کیونکہ اس وقت ہم تو وہ کمرہ خالی کر رہے تھے اور احمدی ہماری وجہ سے ہی وہاں آتے تھے۔وہاں اسے چھوڑ دینے کے یہ معنی تھے کہ اپنے بھائی کا اسباب ضائع ہونے دیا جائے کیونکہ کمرہ خالی کر دینے کے بعد کون اس کی حفاظت کر سکتا تھا ؟ اس صورت میں بھی آپ کا فرض تھا کہ بکس ساتھ رکھ لیتے اور جب ساحل سمندر پر دوست رخصت کرنے کے لئے آتے تو ان سے پوچھتے کہ اگر کسی دوست کا یہ سامان رہ گیا ہوتو وہ لے لیں مگر سب سے مقدم یہ امر تھا کہ مجھ سے پوچھتے کہ یہ زائد سامان کیسا ہے؟ کوئی چیز یہاں سے تو نہیں خریدی۔اس کو سُن کر وہ دونوں دوست جن کے ذمہ سامان کی حفاظت تھی مسکرا پڑے کہ یہ خیال ہی نہیں آیا۔اب یہ کتنی بڑی سادگی ہے۔ایک کمرہ کرایہ پر لیا لی جاتا ہے۔اس میں اپنا تمام اسباب رکھا جاتا ہے مگر روانگی کے وقت ایک بکس اسی جگہ چھوڑ دیا کی جاتا ہے اور سالار کارواں سے پوچھا تک نہیں جاتا کہ یہ صندوق بھی ہمارا ہی ہے یا کسی اور کا ؟ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ میں نے خود کوئی وہاں سے سو دا منگوایا ہو؟ اور اسے اس صندوق میں بند کر دیا گیا ہو مگر محض اس لئے اسے چھوڑ دیا گیا کہ قادیان سے چلتے وقت ہم اس صندوق کو