خطبات محمود (جلد 20) — Page 86
خطبات محمود ۸۶ سال ۱۹۳۹ء کرلیں گے ، وہ چینی پر اعتبار کر لیں گے ، وہ افغان پر اعتبار کر لیں گے ، وہ مصری پر اعتبار کر لیں کی گے، وہ ایرانی پر اعتبار کر لیں گے ، وہ روسی پر اعتبار کر لیں گے مگر جس وقت کسی ہندوستانی کا سوال ان کے سامنے آئے گا وہ کہیں گے ہندی بطال ، ہندی بڑا جھوٹا اور چور ہوتا ہے۔ہندوستانی ہی سب سے زیادہ مکہ مکرمہ کی محبت کا دعویٰ کرتا ہے۔ہندوستانی ہی مقامات مقدسہ کی حفاظت میں سب سے زیادہ حصہ لیتا ہے اور ہندوستانی ہی سب کے آگے رہنے کی کوشش کرتا ہے مگر وہاں کے لوگوں پر اس نے کیا اثر ڈالا ہے یہی کہ ہندی بھال۔اگر ان کے اخلاق اچھے ہوتے تو جس طرح انہوں نے باہر کے لوگوں کے لئے قربانیاں کی تھیں اُسی طرح کی کوئی ان کے لئے بھی تو قربانی کرتا۔مگر کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ترکوں کی خلافت پر حملہ ہوتا ہے تو کی ہندوستانی مسلمان اس کی حفاظت کے لئے آگے بڑھتے ہیں، مصر پر انگریزوں کے دانت تیز ہوتے ہیں تو ہندوستان کے مسلمان اس کے مقابلہ کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیتے ہیں، افغانستان پر حملہ ہوتا ہے تو ہندوستانی مسلمان مضطرب ہو جاتے ہیں ، ایران خطرہ میں ہوتا ہے تو ہندوستانی مسلمان شیخ اُٹھتے ہیں۔گویا دُنیا جہاں کا درد ہندوستان کے مسلمان کے سینہ میں ہے اور جہاں کہیں کسی مسلمان کو تکلیف پہنچتی ہے وہ اس کے اثر سے مضطرب اور بے چین ہو جاتا ہے مگر جب ہندوستان کے مسلمانوں پر کوئی مصیبت آتی ہے تو مصر کے لیڈر بھی کہتے ہیں کہ ہندوستان کے مسلمان بڑے احمق ہیں جب اُنہیں آزادی مل رہی ہے تو وہ ہندوؤں کے ساتھ مل کر کام کیوں نہیں کرتے ، ترک بھی کہتے ہیں کہ ہندوستان کے مسلمان بڑے احمق ہیں انہیں کی عظمندی کے ساتھ کام کرنا نہیں آتا ، ایرانی بھی کہتے ہیں کہ ہندوستانی مسلمان بیوقوف ہیں اور افغانی بھی کہتے ہیں کہ ہندوستان کے مسلمان عقل و سمجھ سے عاری ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے کیریکٹر کا بُرا اثر ان لوگوں کے دلوں پر ہے اور اسی کیریکٹر کے بداثر کی وجہ سے وہ ان کی کی قربانی کی بھی قدر نہیں کرتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی قربانی بھی ان کی کمزوری کی حالت ہے جس طرح ایک کمزور انسان بعض دفعہ جوش میں آجاتا ہے مگر اُس کا جوش کسی نیکی کی وجہ سے نہیں بلکہ طبیعت کی کمزوری کی وجہ سے ہوتا ہے اسی طرح وہ خیال کرتے ہیں کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی قُربانی بھی کسی نیکی کی وجہ سے نہیں بلکہ کمزوری کی وجہ سے ہے۔اگر یہاں کے