خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 83

خطبات محمود ۸۳ سال ۱۹۳۹ ء تو پھر میں اس بات کا ذمہ دار ہوں کہ انگریز آپ ہی آپ تم سے صلح کرنے کے لئے آگے بڑھیں گے ۔ اب بھی دیکھ لو کیا ہو رہا ہے ۔ گوکئی صوبوں میں کانگرسی وزارتیں قائم ہو چکی ہیں مگر انہی صوبوں میں خطرناک طور پر رشوتیں چل رہی ہیں اور اب تو گاندھی جی نے بھی اپنے اخبار میں لکھا ہے کہ بعض واقعات میرے سامنے ایسے آئے ہیں جن سے یہ بات درست معلوم ہوتی ہے۔ تو جب تک کسی قوم میں دیانت نہیں اُس وقت تک نہ اُس قوم میں حکومت رہ سکتی ہے نہ وہ حکومت لے سکتی ہے اور اگر بالفرض وہ کبھی اپنی کثرت تعداد کی بناء پر حکومت لے بھی لے تو وہ حکومت کو سنبھال نہیں سکتی مگر یہ چیز صرف حکومت سے تعلق نہیں رکھتی کہ یہ کہا جائے کہ آپ حکومتوں کی بات لے بیٹھے ہیں جماعت احمدیہ کی بات کیوں نہیں کرتے ۔ حقیقت یہ ہے کہ طاقت اور جتھا حکومتوں سے ہی وابستہ نہیں ہوتا بلکہ قوموں سے بھی وابستہ ہوتا ہے اور بعض قو میں تو تلوار سے جیتی ہیں اور بعض نظام اور تبلیغ سے جیتی ہیں ۔ ہماری جماعت تلوار سے جیتنے والی نہیں بلکہ نظام اور تبلیغ سے جیتنے والی ہے اور نظام اور تبلیغ سے جیتنے والی جماعتوں کو دیانت کی ان جماعتوں سے بھی زیادہ ضرورت ہوتی ہے کہ جن قوموں کے پاس تلوار ہو وہ تو بد دیانتوں کا تلوار سے سر اڑ سکتی ہیں مگر جن کے پاس تلوار نہ ہوا نہیں بد دیانتی بہت زیادہ نقصان پہنچایا کرتی ہے کیونکہ اُن کے پاس بد دیانتوں کا کوئی علاج نہیں ہوتا ۔ انگریزوں میں یا فرانسیسیوں میں یا جرمنوں میں جب کوئی شخص غداری کرتا ہے تو انگریز ، فرانسیسی اور جرمن اس پر مقدمہ کرتے اور مجرم ثابت ہونے پر اُسے مار ڈالتے ہیں مگر جن کے پاس حکومت نہیں ہوتی اور جو تلوار سے کامیاب نہیں ہونا چاہتے بلکہ نظام اور تبلیغ سے کامیاب ہونا چاہتے ہیں اُن میں جب کوئی غدار پیدا ہو جاتا ہے تو وہ اُس کا سوائے اس کے اور کیا علاج کر سکتے ہیں کہ دلائل سے اُس کا مقابلہ کریں ۔ مگر اس رنگ میں مقابلہ کرنے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ غد ارشور مچاتا رہتا ہے اور اس کو دیکھ کر بعض اور لوگ بھی جن کی فطرت میں غداری کا مادہ ہوتا ہے یہ خیال کرنے لگ جاتے ہیں بھی کا کہ ان کے پاس طاقت تو ہے نہیں چلو ہم بھی ذرا شور مچادیں۔ چنانچہ وہ بھی جماعت کو بد نام کرنے لگ جاتے ہیں ۔ اس قسم کے مفاسد کو دور کرنے کا صرف نے کا صرف ایک ہی علاج ہے اور وہ یہ کہ