خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 66

خطبات محمود ۶۶ سال ۱۹۳۹ ء کہ مقابلہ پر آئے ۔ یہاں بڑے بڑے شہروں مثلاً لا ہور ، دہلی شملہ میں آئے دن عورت مرد کی مساوات کا شور رہتا ہے۔ مساوات کے یوں تو سب ہی قائل ہیں مگر یہ کوئی نہیں دیکھتا کہ مساوات ہے کس معاملہ میں؟ حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ جموں میں ایک حج اسی موضوع پر ان سے بحث کرنے لگا کہ مرد عورت میں مساوات ہونی ضروری ہے۔ آپ نے فرمایا کہ پچھلی مرتبہ آپ کی بیوی کے لڑکا ہوا تھا اتھا اب کے آپ پ کے ہونا چاہئے ۔ یہ جواب سن کر تھا لیکن - وہ کہنے لگا کہ میں نے سُنا ہوا تھا مولوی بد تہذیب ہوتے ہیں مگر میں آپ کو ایسا نہ سمجھتا تھا اب معلوم ہوا کہ آپ بھی ایسے ہی ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ اس میں بد تہذیبی کی کوئی بات نہیں ۔ میں نے تو ایک مثال دی تھی اور آپ کو بتایا تھا کہ جب فطرت نے دونوں کو الگ الگ کاموں کے لئے پیدا کیا ہے تو اس مساوات کے شور سے کیا فائدہ؟ تھی تو یہ سچائی مگر ایسے ننگے طور پر پیش کی گئی کہ اُسے بُری لگی اور شائد اس کے حالات کے لحاظ سے حضرت خلیفہ اوّل کے لئے اس کے سوا چارہ نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ مساوات بے شک ہے مگر دونوں کے کام الگ الگ ہیں ۔ اس بات کو پیش کرنے کی کسی کو جرات نہیں ہوتی کیونکہ قومی روح موجود نہیں ۔ ہر شخص اپنی ذات کو دیکھتا ہے ۔ اگر عورتوں کے لئے یہ قربانی ہے کہ وہ گھروں میں رہیں تو مرد کے لئے بھی اس کے مقابلہ میں یہ بات ہے کہ میدانِ جنگ میں جا کر سر کٹوائے لیکن چونکہ قومی اور ملی روح موجود نہیں اس لئے ان باتوں کو کوئی پیش کرنے کی جرات نہیں کرتا ۔ پس خدام الاحمد یہ اس بات کو اپنے پروگرام میں خاص طور پر ملحوظ رکھیں کہ قومی اور ملتی روح کا پیدا کرنا نہایت ضروری ہے ۔ اصولی طور پر ہر ایک سے یہ اقرار لیا جائے اور اسے بار بارڈ ہرایا جائے۔ محض اقرار کافی نہیں ہوتا بلکہ بار بارڈ ہرانا اشد ضروری ہوتا ہے ۔ آج علم النفس کے ماہر اس بات پر بڑا زور دیتے ہیں کہ دوہرانے سے بات اچھی طرح ذہن نشین ہو جاتی ہے لیکن ان کی یہ بات جب میں پڑھتا ہوں تو مجھے حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح آج سے چودہ سو سال قبل اسلام نے اسی بات کو پیش کیا ہے ۔ اسلام ہی ہے جس نے نہایت مختصر الفاظ میں مذہب کا خلاصہ پیش کر دیا ۔ لَا اِلهَ اِلَّا الله مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کیا ہے؟ یہ اسلامی تعلیم کا خلاصہ ہے اور جب میں علم النفس کا یہ مسئلہ پڑھتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں کہ یہ لوگ