خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 65

خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء کپڑا پہننے کی اجازت ہے اور سب کے لئے یہی حکم ہے۔اس طرح ہماری شریعت نے دونوں رنگ رکھے ہیں۔کہیں تو کم خرچ کرنے کو کہا ہے اور کہیں دوسروں کے لئے خرچ کرنے کا حکم دیا ہے۔روپیہ موجود ہے مگر انسان اس کا استعمال نہیں کر سکتا اس لئے کہ اپنے غریب یا نادار بھائی کے مشابہہ نظر آ سکے۔یا چیز موجود ہے مگر اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ دوسرے کو دے دو اور اسی کا نام ملتی روح ہے۔یعنی اپنی طاقتوں کو اور ذرائع کو مقید اور محدود کر دیا جائے اور اس ملی روح کے کمال کا نقطہ یہ ہے کہ انسان کے اندر یہ بات پیدا ہو جائے کہ جہاں میری ذات کا مفاد میری قوم کے مفاد سے ٹکرائے وہاں قومی مفاد کو مقدم کروں گا اور اپنی ذات کو نظر انداز کر دوں گا اور جب کسی جماعت میں یہ بات پیدا ہو جائے تو وہ کسی سے ہارتی نہیں۔صحابہ کرام کی حالت ہمارے سامنے ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کے لئے صحابہ جو قر بانیاں کرتے تھے وہ بھی دراصل اسلام کے لئے ہی تھیں کیونکہ وہ آپ کو اسلام کا مکمل نمونہ خیال کی کرتے تھے اور اس لئے آپ کے مقابلہ میں اپنی شخصیتوں کو بالکل نظر انداز کر دیتے تھے۔مذہبی جماعتوں میں تو رُوح بہت بڑی ہوتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ دُنیوی قوموں میں بھی جب یہ بات پیدا ہو جائے تو وہ بہت ترقی کر جاتی ہیں۔آج کل دیکھ لو انگلستان میں بھی اور ا ہندوستان میں بھی یہ موضوع زیر بحث آتا رہتا ہے کہ عورت کا کام کیا ہے؟ بڑے بڑے لوگ ہمیشہ اس پر اظہار خیال کرتے رہتے ہیں مگر کیا مجال جو کوئی یہ کہنے کی جرات کر سکے کہ عورت کا کام یہ ہے کہ وہ گھر کی چاردیواری میں بیٹھے۔اگر کوئی شخص ایسی بات کہہ دے تو ایک طرف عورتیں اس کے پیچھے پڑ جائیں گی کہ یہ ہماری آزادی کا دشمن ہے اور دوسری طرف اخبارات میں مردا سے غیر مہذب اور غیر متمدن کہیں گے لیکن جرمنی میں ہٹلر نے کہہ دیا کہ عورت کا کام یہ ہے کہ اپنے گھر میں بیٹھے اور سب نے اسے تسلیم کر لیا۔جو بات یہاں ہندوستان میں جو ایک غلام ملک ہے کہنے کی کوئی حجرات نہیں کرتا وہ ایک آزاد ملک میں کہی گئی اور سب نے اسے ہلا چون و چرا تسلیم کر لیا۔حالانکہ یہ ایک ایسا سوال ہے کہ یورپ میں اس کا سمجھنا بالکل ناممکن کی ہے کہ عورت گھر میں کس طرح رہ سکتی ہے مگر ہٹلر نے جو حکم دیا اُسے سب نے تسلیم کیا اور عمل کیا۔اگر چہ کوئی ایسا طبقہ ہو سکتا ہے جو دل سے اس خیال کے ساتھ متفق نہ ہو مگر یہ جرات کسی کو نہیں ہوئی