خطبات محمود (جلد 20) — Page 63
خطبات محمود ۶۳ سال ۱۹۳۹ء وہ ملی روح کے لئے ہی تھا۔یعنی يَادَمُ اسْكُنُ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ " اے آدم تو اور تیرے ساتھی جنت میں رہو یعنی اکٹھے مل کر تعاون کے ساتھ رہو اور ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی جھگڑا نہ کرو۔زوج کے معنی بیوی کے بھی ہوتے ہیں سکے مگر ساتھی کے معنوں میں بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے کیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات میں جہاں یہ لفظ بیوی کے معنوں میں استعمال ہوا ہے وہاں کئی الہام ایسے ہیں جن میں یہ جماعت کے معنوں میں آیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات دراصل قرآن کریم کی تفسیر ہیں اور الفاظ قرآنی کے جو معنی اس زمانہ میں مخفی تھے اللہ تعالیٰ نے آپ کے الہامات میں ان کا استعمال کر کے وہ معانی ظاہر فرما دیئے ہیں اور اگر کوئی شخص آپ کے الہامات کا مطالعہ کرتا ہے تو قرآن کریم کی تفسیر میں اُس کا علم بہت وسیع ہو سکتا ہے اور آپ کے الہاموں میں زوج کا لفظ دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔کہیں اس کے معنی بیوی کے ہیں اور کہیں مخلص جماعت کے اور زوج کے معنوں میں یہ امتیاز معلوم کرنے کے بعد جب اسے قرآن کریم کی اس آیت پر چسپاں کریں تو وسیع مطالب کھل جاتے ہیں۔غرض يَا دَمُ اسْكُنُ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ مَا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ آدم اور اُس کی بیوی جنت میں رہیں۔مگر اس کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ آدم اور اُس کے مخلص صحابی ایک جگہ مل کر رہیں اور محبت سے رہیں۔تعاون کا مفہوم جنت کی کے لفظ سے نکلتا ہے۔جنت کی تشریح اسلام نے یہ کی ہے کہ دلوں سے کینہ و بغض نکال دیا جائے گا اور جب یہ حکم ہو کہ جنت میں رہو تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ اپنی زندگی میں جنت کی کیفیات پیدا کرو اور باہم تعاون کے ساتھ رہو۔ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی جھگڑا اور کی گالی گلوچ سے بچو ، جماعتی نظام کو نمایاں کرو اور شخصی وجود کو اس کے تابع رکھو اور دراصل اس کے بغیر حقیقی تعاون کبھی ہو ہی نہیں سکتا۔حقیقی تعاون کے لئے یہ اشد ضروری ہے کہ انسان شخصی آزادی کو قربان کر دے۔دو شخص اکٹھے چل رہے ہیں۔ایک تیز چلنے والا ہے اور دوسرا کمزور۔اب دونوں کے اکٹھا چلنے کی صورت یہی ہو سکتی ہے کہ تیز چلنے والا اپنی رفتار کو کم کر دے اور آہستہ چلنے لگے کیونکہ کمزور تو تیز نہیں چل سکتا۔ایک بوڑھا جو لاٹھی ٹیک کر چلتا ہے اور ایک تیز چلنے والا نوجوان اکٹھے چلیں اور بوڑھا یہ اُمید رکھے کہ نو جوان آہستہ چلے اور نو جوان یہ کہ