خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 605 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 605

خطبات محمود ۶۰۵ سال ۱۹۳۹ ء ایسا نہیں کہ وہ اپنے خدا کے حضور کھڑا ہو اور یہ سب مل کر بھی اس کے درمیان آ سکیں ۔ چاہے کوئی کتنا کمزور انسان ہو جب اوہ درد اور سوز کے ساتھ دعا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اُسے ہرگز ضائع نہیں کرے گا اور اگر یہ دُعائیں بند ہو جائیں تو اس طرح وہ تحائف جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچتے ہیں بند ہو جائیں گے کیونکہ جب یہ یقین ہو جائے کہ اور مقام کوئی باقی نہیں تو پھر دُعا کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو گی بلکہ درود بھی چھوڑ نا پڑے گا کیونکہ یہ بھی تو بلندی درجات پر ہی دلالت کرتا ہے ۔ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ بَارِک وَسَلَّم کے معنے یہ نہیں کہ آپ کو روٹی اور کباب ملیں بلکہ اس سے روحانی برکات ہی مراد ہیں اور اسی کا نام کمال ہے۔ تو ایسا عقیدہ رکھنے سے درود شریف کو بھی چھوڑنا پڑے گا اور جب کسی مسلمان کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تحا وسلم کو تحائف نہ پہنچیں گے تو وہ بھی آپ کی دُعا سے محروم ہو جائے گا ۔ قرآن کریم نے حکم دیا ہے کہ جب کسی مسلمان کو کوئی تحفہ دیا جائے تو وہ اس سے اچھا نہیں تو ویسا ہی تحفہ دے اور جب ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درجات کی بلندی کے لئے دُعا کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ اسے آپ کے پاس پہنچا تا ہے تو آپ دُعا کرتے ہوں گے کہ خدایا ! اس بندے کو بھی وسیلہ اور فضلیت عطا فرما ۔ اسی طرح جب درود آپ کی خدمت میں پیش ہوتا ہو گا تو آپ دُعا فرماتے ہوں کے کہ خدایا ! اس شخص کے گھر کو بھی برکت سے بھر دے اور ان دُعاؤں کے طفیل انسان ہزاروں آفات سے محفوظ رہتا ہے لیکن جب یہ یقین ہو کہ آپ کے درجات میں ترقی ممکن نہیں تو ہر معقول آدمی دُعا کرنی اور درود پڑھنا چھوڑ دے گا اور اس طرح تمام ان برکتوں سے محروم ہو جائے گا جو آپ کے ذریعہ ا - پ کے ذریعہ اسے ملتی تھیں ۔ پس یہ عقیدہ بالکل غلط ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ جتنے کمالات سب انبیاء اور بزرگوں کو ملے ہیں یا بعد میں آنے والوں کو ملیں گے وہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہیں اور اگر ان معنوں میں کہا جائے کہ آپ کو تمام کمالات حاصل ہیں تو یہ بات ٹھیک ہے لیکن اگر یہ مطلب ہو کہ اب خدا تعالیٰ کے پاس بھی دینے کے لئے کچھ نہیں رہا تو یہ صحیح نہیں اور ہر سننے والا سُن لے کہ خواہ وہ اس میں ہتک سمجھے یا کچھ اور ، حقیقت یہی ہے کہ ہمارے خدا کے پاس نہ صرف دوسروں کو بلکہ خود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دینے کے لئے بھی بہت کچھ ہے۔ اس کے