خطبات محمود (جلد 20) — Page 595
خطبات محمود ۵۹۵ سال ۱۹۳۹ء یہ تحریک سنی تو اس سے متاثر ہو کر اُنہوں نے آٹھ دس سال کا اندوختہ جو تین سو روپیہ کے قریب تھا تین سالوں میں بھجوا دیا۔پہلے سال مثلاً سو بھجوا دیئے پھر دوسرے سال کو بھجوا دیئے اور جو کچھ باقی رہا وہ تیسرے سال بھجوا دیا اور ان کا اندوختہ سب ختم ہو گیا۔اب ان کے اندر یہ طاقت نہیں کہ وہ ہر سال سو روپیہ یا اس پر کچھ اضافہ کر کے دیں کیونکہ انہوں نے پہلے جو سو روپیہ ہر سال دیا تھا وہ اپنے جمع کردہ روپیہ میں سے دیا تھا ورنہ ان کی ماہوار آمد ایسی نہ تھی کہ وہ اس بوجھ کو برداشت کر سکتے۔اب ایسے لوگ اگر آئندہ سالوں میں ان قواعد کے مطابق جو سابقون کے متعلق ہیں حصہ نہیں سکتے تو وہ سابقون کی لسٹ میں سے نکل جاتے ہیں اور وہ لوگ جنہوں نے کم قربانی کی تھی وہ سابقون کی لسٹ میں آجاتے ہیں۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قر بانی انہوں نے زیادہ کی تھی نہ اُنہوں نے جو شروع سے تھوڑا تھوڑا حصہ لیتے رہے اور پھر اس پر معمولی اضافہ کرتے رہے۔میں ایسے لوگوں کے متعلق کوئی تجویز سوچ رہا ہوں۔اب بھی میرے علم میں کوئی کی ایسا واقعہ آتا ہے تو میں اس شخص کو سابقون کی لسٹ میں ہی شامل کرانے کی کوشش کرتا ہوں۔چنانچہ بعض جگہ ہم ایسے لوگوں کے چندہ کو کئی سالوں میں پھیلا دیتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ان کی قربانی ان لوگوں سے بہت زیادہ ہے جو تحریک جدید میں معمولی حصہ لے کر سابقون کی فہرست میں آئے ہوئے ہیں۔یہ دوست جن کا میں نے ذکر کیا ہے بہت ہی اخلاص سے قربانی کرنے والے ہیں۔سال پنجم کا روپیہ وہ جلدی ادا نہیں کر سکے تھے۔میعاد ختم ہونے میں ایک دن رہتا تھا کہ انہیں کہیں سے روپیہ دستیاب ہو گیا اُنہوں نے اپنی جماعت کے سیکرٹری کو تلاش کیا مگر وہ نہ ملا ، منی آرڈر بھیجنے کا کوئی وقت نہ تھا وہ اسی وقت گاڑی پر سوار ہو کر قادیان آئے اور اُنہوں نے میعاد ختم ہونے سے پہلے پہلے اپنا چندہ داخل کرا دیا۔اب وہ اسی مشکل میں مبتلا ہیں کہ شروع میں ان کی کے پاس جس قدر اندوختہ تھا وہ انہوں نے تحریک جدید میں دے دیا لیکن اب وہ اس معیار کو قائم نہیں رکھ سکتے اُنہوں نے ہی یہ سوال اُٹھایا ہے اور ان کے علاوہ بھی بعض اور دوستوں نے پوچھا ہے جس کا اصل جواب تو یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور سابقون کی لسٹ میں شامل ہیں۔اگر ہمارے رجسٹر میں وہ سابقون کی لسٹ میں شامل نہیں تو کیا ہوا۔یہ ہوسکتا تھا کہ ہم آخر میں