خطبات محمود (جلد 20) — Page 59
خطبات محمود ۵۹ سال ۱۹۳۹ ء یہ اعلان کر دیا تھا کہ جب مصیبت کا کوئی وقت آیا اُس وقت ہم دکھا دیں گے کہ حکومت کے ساتھ تعاون کی جو ہماری پالیسی ہے یہ دکھاوے کی نہیں اور نہ کسی دُنیوی غرض کے ماتحت ہے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کے ماتحت ہم حکومت کی اطاعت کرتے ہیں اور چونکہ اب خطرات روز بروز بڑھ رہے ہیں اور اِس بات کا امکان ہے کہ جلدی کوئی جنگ ہو جائے اس لئے ۱۹۳۴ء میں میں نے جو اعلان کیا تھا اُس کے مطابق میں آج پھر یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اس جنگ کے موقع پر ہم جو برطانوی حکومت کے ماتحت رہتے ہیں ہمارا تعاون حکومت برطانیہ کے ساتھ ہو گا اور ہم اپنے عمل سے دُنیا پر یہ بات ثابت کر دیں گے کہ ہمارا حکومت برطانیہ سے تعاون کسی خوشامد یا لالچ کی وجہ سے نہیں بلکہ مذہبی تعلیم کی وجہ سے ہے کیونکہ اس وقت اس کے نمائندے پنجاب میں ہم سے نہایت کمینہ اور ذلیل سلوک کر رہے ہیں جس کی موجودگی میں اگر ہم اس حکومت سے دُشمنی بھی کریں تو دُنیا کا کوئی اعتراض ہم پر نہیں ہو سکتا لیکن ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ہم نے اس وقت بھی حکومت کی اطاعت کی جب اِس کے شائستہ اور مہذب اور دیانتدار افسروں نے ہم کو لوگوں کے ظلم سے بچایا اور اُس وقت بھی اس کے ساتھ تعاون کیا جب کہ اس کے بعض افسروں نے ہمیں اپنے مذہبی مرکز میں دق کیا اور ہمارے دشمنوں کو چاروں طرف سے جمع کر کے ہم پر چڑھا لائے اور اُنہوں نے چاہا کہ اپنی طاقت اور پنے جتھے کے زور سے ہم کو کچل دیں اور ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں اور انشاء اللہ ثابت کر دیں گے کہ ہمارا یہ معاملہ کسی دُنیوی غرض کے لئے نہیں بلکہ اعلیٰ اخلاق اور مذہبی اصول کی پابندی کی وجہ سے ہے۔ مگر اس کے یہ معنے نہ ہوں گے کہ ہم اپنے حقوق کو بھول جائیں ۔ میں احمدیت کی عزت کی خاطر مقامی افسروں سے اگر وہ اپنے بُرے روئیہ کو ترک نہ کریں گے برابر لڑتا رہوں گا اور جب تک احمد یہ جماعت کی عزت کو قائم نہ کرلوں گا ان سے صلح نہ کروں گا کیونکہ میرے نزدیک احمد یہ جماعت کی عزت برطانیہ کی عزت سے بہت زیادہ ہے اور جو افسر یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ اپنی طاقت کے ساتھ جماعت احمدیہ کو ڈرا احمدیہ کو ڈرا لیں گے وہ ایک دن ذا ذلیل ہو کر اپنی غلطی کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوں گے۔ میں احسان کے ساتھ ان سے بدلہ لوں گا اور خود ان کی قوم سے