خطبات محمود (جلد 20) — Page 569
خطبات محمود ۵۶۹ سال ۱۹۳۹ء وہ مجھے بتا دے۔میں تسلیم کرلوں گا۔مجھے اسلامی تاریخ میں یہ تو ملتا ہے کہ عورتیں مل کر شعر پڑھتی ہی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ میں تشریف لائے تو ان کے استقبال کے لئے کی عورت مرد نکلے اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نظر آئے تو انہوں نے شعر بھی پڑھے مگر یہ اس زمانہ کی بات ہے جب اہلِ مدینہ اسلام سے اچھی طرح واقف نہ تھے۔اس وقت عورتوں نے جو شعر پڑھنے وہ اس طرح شروع ہوتے تھے طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا مِنْ ثَنِيَّةِ الْوِدَاع یعنی آج ہم پر چودھویں رات کا چاند فلاں گوشے سے طلوع ہوا ہے۔یہ سب لوگ استقبال کے لئے باہر نکلے تھے اور جب آپ کو دیکھا تو یہ شعر پڑھنے لگے مگر یہ وہ زمانہ تھا جب ان لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی طرح دیکھا بھی نہ تھا بلکہ یہ وہ زمانہ تھا جب ان لوگوں نے آپ کے ساتھ یہ معاہدہ کیا تھا کہ اگر آپ پر کوئی دشمن مدینہ میں حملہ آور ہوگا تو ہم آپ کی مدد کریں گے لیکن اگر آپ مدینہ سے باہرلڑ نے جائیں تو ہم پر کوئی ذمہ داری نہ ہوگی کی مگر اس سے زیادہ پھر بھی ثابت نہیں کہ لوگوں نے جمع ہو کر شعر پڑھے۔یہ ثابت نہیں کہ تکلف کے ساتھ ایک پہلے شعر پڑھتا ہے دوسرے اس کے پیچھے مٹکتے جاتے ہیں اور بعد میں اس کے شعر کو یا اس کے ٹکڑے کو دہرا دیتے ہیں۔اسی طرح یہ بھی ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود شعر پڑھوا کر سُنتے تھے۔بعض بیوقوف اس پٹھان کی طرف جس نے کہہ دیا تھا کہ خوہ محمد صاحب کا نماز خراب ہو گیا اس کو جائز نہیں سمجھتے مگر یہ حقیقت ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود کہہ کہہ کر بعض دفعہ شعر پڑھواتے تھے۔جہاد کو جاتے ہوئے خوش الحانوں سے کہہ کر شعر پڑھوانا تو حدیثوں میں کثرت سے ثابت ہے۔پھر حدی خوانی تو عربوں کی مشہور ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس سے منع نہیں فرمایا۔اونٹ شعر پر عاشق ہوتا ہے اور اسے سُن کر تیز چلتا ہے تو اس قسم کی شعر خوانی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس میں ثابت ہے۔اپنے بے تکلف دوستوں کی مجالس میں میں بھی بچپن میں شعر پڑھ لیا کرتا تھا۔اب تو گلے کی تکلیف کی وجہ سے خوش آوازی ہی باقی نہیں رہی شعر کیا پڑھنا ہے اور اگر ہو بھی تو مجلس میں شعر پڑھنے سے مجھے حجاب ہے مگر اس کے باوجود میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ میری فطرت کے خلاف ہے۔بچپن میں