خطبات محمود (جلد 20) — Page 567
خطبات محمود ۵۶۷ سال ۱۹۳۹ ء اور یا خلافت جو بلی کا سوال نہیں بلکہ اہم سوال یہ ہے کہ ہم نے اسلام کی تعلیم کو قائم رکھنا ہے۔ خلافت تو الگ رہی نبوت بھی اسلامی تعلیم کے تابع ہے کیونکہ اسلام دائمی صداقت کا نام ہے اور ہر عقلمند شخص یہ تسلیم کرے گا کہ دائمی صداقت انبیاء پر بھی بالا ہے۔ دائمی صداقت کو انبیاء کے لئے ہے ۔ دامی صد قربان نہیں کیا کیا جاتا جاتا بلکہ انبیاء اس کے لئے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں اور ہمیشہ ادنی چیز اعلیٰ کے لئے قربان کی جاتی ہے اعلیٰ ادنی کے لئے نہیں ۔ قرآن کریم نے یہ کہیں نہیں کہا کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان خطرہ میں ہو تو توحید کو قربان کر دیا جائے ، صداقت اور حق کو قربان کر دیا جائے ۔ یہ کہا ہے کہ اے محمد قرآن کی خاطر تو اپنے آپ کو قربان کر دے۔ پس صداقت انبیاء سے بھی بالا چیز ہے ۔ انسان خواہ وہ نبی ہو یا نبیوں کا سردار بہر حال صداقت کے تابع ہے ۔ جہاں تک صداقت کی اشاعت کا تعلق ہوتا ہے نبی بے شک بمنزلہ سورج کے ہوتے ہیں اس لئے کہ ان کے ذریعہ صداقت قائم ہوتی ہے۔ صداقت کو شہرت اور عزت ان کے ذریعہ ہی ملتی ہے اس لئے تمثیلی طور پر اللہ تعالیٰ ان کو سورج بھی قرار دیتا ہے ورنہ حقیقتاً وہ ق قمر کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ تمام انبیاء ضیاء الحق یعنی خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں جو اصل صداقت ہے قمر کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ان کو سورج کہنا ایسی ہی بات ہے جس طرح ماں باپ کی عزت ہر مذہب میں ضروری ہے اور اسلام نے تو اس پر زیادہ زور دیا اور فرمایا ہے کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے لیے قرآن کریم کا حکم ہے کہ ان کے سامنے اُف تک نہ کرو گے مگر باوجود اس کے ماں باپ اپنے بچے کو کہتے ہیں کہ میں قربان جاؤں ، واری جاؤں ۔ ان کا کہنا مقام کے لحاظ سے نہیں ہوتا بلکہ اظہار محبت کے لئے ہوتا ہے ۔ اسی طرح انبیاء کبھی شمس بھی کہلاتے ہیں مگر اصل مقام ان کا الحَق کے مقابلہ میں قمر کا ہی ہوتا ہے اس کی ایسی مثال ہے جیسے کسی دن جب جو بالکل صاف ہو مطلع بالکل ابر آلود نہ ہو ، چاند چودھویں کا ہو اور وہ تمام باتیں جن سے روشنی تیز ہوتی ہے موجود ہوں تو کوئی شخص کہے کہ آج چاند کیا ہے سورج ہے ۔ اس کے معنے یہ ہوں گے کہ آج چاند سورج سے اتنا مشابہہ ہے کہ اس کا دوسرا نام رکھنا ٹھیک نہیں اس لئے بالکل وہی نام دینا چاہئے ۔ تو یا د رکھنا چاہئے کہ ایسے مواقع پر ہمیشہ شریعت کی حفاظت اور اسے سب باتوں پر مقدم