خطبات محمود (جلد 20) — Page 54
خطبات محمود ولد سال ۱۹۳۹ ء امریکہ یورپ سے چار ہزار میل دور ہے ۔ پس امریکہ والے سمجھتے تھے کہ ہمیں اس جنگ سے کیا خطرہ ہو سکتا ہے مگر اب سامانِ حرب میں جو ترقی ہوئی ہے اور نئی نئی قسم کے ہوائی جہاز بنے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے امریکہ کے پریزیڈنٹ نے بھی اعلان کر دیا ہے اور آج کے اخبارات میں ہی وہ اعلان چھپا ہے کہ آج محاذ جنگ اتنا بدل چکا ہے کہ امریکہ کو الگ سمجھنا بالکل بیوقوفی ہے ۔ آج ہماری سرحد امریکہ پر نہیں بلکہ فرانس پر ہے اور ہم بھی اسی طرح جنگ کے خطرہ میں ہیں جس طرح یورپ کی دوسری طاقتیں ۔ ( اس کی مبہم الفاظ میں تردید ہوئی ہے مگر وہ تردید قانونی ہے حقیقی نہیں ۔ ) ایسے ایسے ہوائی جہاز ایجاد ہو چکے ہیں کہ بالکل ممکن ہے کہ صبح کے وقت جرمنی سے ایک ہوائی جہاز اُڑے اور شام کے وقت امریکہ پر لاکھوں بم برسا کر واپس آ جائے ۔ ساڑھے چار سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اُڑنے والے ہوائی جہاز ایجاد ہو چکے ہیں ۔ ہندوستان جرمنی سے ساڑھے پانچ ہزار میل دور ہے ۔ اگر چار سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اُڑنے والا ہوائی جہاز جرمنی سے چلے تو ایک ہزار میل وہ اڑھائی گھنٹے میں طے کر سکتا ہے۔ اس کے معنے یہ بنے کہ چودہ گھنٹے کے اندر اندر جرمنی سے ہوائی جہاز چل کر ہندوستان پر بمباری کر سکتا اور یہاں کے لوگوں کو تباہ کر سکتا ہے بلکہ اب تو جرمنی سے بھی چلنے کی ضرورت نہیں ۔ اٹلی جرمنی کے ساتھ ہے اور ایسے سینیا اٹلی کے قبضہ میں ہے اور ایسے سینیا سے ہندوستان دو ہزار میل کے فاصلہ پر ہے۔ گویا ابی سینیا سے ایک ہوائی جہاز پانچ گھنٹے میں ہندوستان آ سکتا اور پانچ گھنٹے یہاں گولہ باری کر کے شام کا کھانا اس کے چلانے والے ایسے سینیا میں واپس جا کر کھا سکتے ہیں ۔ ۔ غرض ایسے ایسے خطر ناک سامان جنگ تیار ہو چکے ہیں کہ انسان ان کا ذکر سُن کر دنگ رہ جاتا ہے۔ کئی لوگ غلط فہمی سے یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر ایسے خطر ناک سامان ایجاد ہو چکے ہوتے تو میں جو آجکل ہو رہی ہیں کیوں وہ ظاہر نہ ہو جاتے ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے سامان تو ایجاد ہو چکے ہیں مگر ان جنگوں میں انہوں نے ان سامانوں کو ظاہر نہیں کیا ۔ وہ سمجھتے ہیں اگر ہم نے ابھی سے ان سامانوں کو ظاہر کر دیا تو لوگوں کو یہ پتہ لگ جائے گا کہ ہمارے پاس کیا کیا سامان ہیں اور وہ ان کا علاج سوچ لیں گے ۔ پس وہ اِن سامانوں کو ابھی چھپائے بیٹھے ہیں اور اندر ہی اندر اور زیادہ سامان تیار کئے جا رہے ہیں ۔ بعض انجینئروں نے تو یہاں تک کہا