خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 513

خطبات محمود ۵۱۳ سال ۱۹۳۹ء بالکل بند کر دیتا ہے۔اس نے تو ایک روپیہ بند کیا مگر خدا تعالیٰ نے دس کی کمی کر دی۔تو یہ سامان نہیں۔سامان یہ ہے کہ ضرورت کے مطابق بے شک انسان کمی کر لے۔اگر ایک روپیہ کی کمی آمد میں ہو تو چندہ میں ڈیڑھ آنہ کی کمی تو جائز ہے مگر آٹھ آنہ کم کر دینا تد بیر نہیں بلکہ اس رستہ کو بند کر دینا ہے جس سے آتا تھا۔یہ ایسی ہی بات ہے کہ کسی کو پیاس لگی ہوئی ہو تو وہ منہ کے آگے ہاتھ رکھ لے۔حالانکہ منہ کے راستہ پانی اندر جا کر پیاس بجھ سکتی ہے۔ہاں ایسے موقع پر اگر انسان قربانی زیادہ کرے تو اللہ تعالیٰ کا فضل بھی زیادہ نازل ہوتا ہے۔حضرت خلیفہ اول کے اسی سفر کا واقعہ ہے جس کا میں اوپر ذکر کر چکا ہوں۔آپ سُنایا کرتے تھے کہ میرے پاس دو صدر یاں تھیں جو بہت قیمتی تھیں اور مجھے ان پر بہت ناز تھا۔گویا بڑی دولت تھی مگر ایک روز میں اس حجرہ سے جہاں ٹھہرا ہوا تھا باہر گیا تو کسی نے ان میں سے ایک چرالی۔آپ فرماتے مجھے صدمہ تو بہت ہوا مگر مجھے خیال آیا کہ جس چیز کی نگرانی میں نہیں کر سکتا اُسے رکھنے کا کیا فائدہ اور دوسری خود لے جا کر خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دی۔اس کے بعد وہ لوگ آئے جو شہزادہ کے علاج کے لئے آپ کو لے گئے۔تو تو گل کے یہ معنے نہیں کہ انسان دنیوی سامان نہ کرے بلکہ یہ ہیں کہ نظر خُدا تعالیٰ پر ہو۔اس کے سوا نظر کسی پر نہ ہو۔اگر ایسا ہو تو دنیوی مشکلات کا اثر دینی خدمات پر نہیں پڑسکتا۔اس تو کل کے ساتھ جب انسان اللہ تعالیٰ کی اخلاص سے عبادت کرتا ہے تو اس کا کی جواب اسے ضر وریل جاتا ہے۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہماری جماعت میں بعض خواب بینوں نے اپنی خوابوں اور کی دُعاؤں کو آمد کا ذریعہ بنایا ہوا ہے اور وہ آنوں بہانوں سے لوگوں سے سوال بھی کرتے رہتے ہیں جس شخص کو اللہ تعالیٰ بندوں سے مانگنے پر مقرر کر دیتا ہے وہ تو ایک عذاب ہے۔ایسے شخص کی خوا میں بھی یقیناً ابتلاء کے ماتحت ہو سکتی ہیں انعام کے طور پر نہیں۔ہاں یہ جائز ہے کہ دین کے لئے انسان دُعا کے پورا ہونے پر خدمت مقرر کر لے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے اپنے نفس کے لئے جائز نہیں اور کامل مومن کی فطرت ہی کے یہ امر خلاف ہے سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کسی کی دُعا سنے اور پھر جس کے حق میں دُعا کی گئی ہے اُس کے دل میں تحریک کرے کہ وہ خود اپنی خوشی سے دُعا کرنے والے کی خدمت کرے۔آخر میں پھر احباب کو کی