خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 509 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 509

خطبات محمود ۵۰۹ سال ۱۹۳۹ ء مشکل یہ تھی کہ ہم سمجھتے ہی نہ تھے کہ آپ وفات پا جائیں گے۔ لوگوں کو اس کا احساس ہوتا ہے۔ اس لئے کوئی روپیہ جمع کرتا ہے ، کوئی بیمے کراتا ہے اور کوئی اور انتظام کرتا ہے مگر ہم تو سمجھتے ہی نہیں تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہو جائیں گے۔ ہم میں سے ہر ایک یہی سمجھتا تھا کہ میں پہلے فوت ہوں گا اور ہر ایک کی خواہش تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کا جنازہ پڑھائیں ۔ نوجوان احباب یہ درخواستیں کرتے تھے کہ حضور دُعا کریں کہ ہم آپ کے ہاتھوں میں فوت ہوں اور آپ جنازہ پڑھائیں ۔ آپ پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور انعامات دیکھ کر ہر شخص یہی خیال کرتا تھا کہ آپ کو زندہ رہنا چاہئے اور قلوب کی اس کیفیت کی وجہ سے نہ ہمیں اس کا خیال تھا اور نہ اس کے لئے کوئی تیاری تھی کہ آپ فوت ہو گئے ۔ بعض رشتہ داروں نے والدہ صاحبہ کو تحریک کی ( ہمارے نانا جان مرحوم نے ایسا مشورہ نہیں دیا مبادی کوئی یہ خیال کرے ) میں یہ تو نہیں کہتا کہ ورغلایا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ نیک نیتی سے ہی کہہ رہے ہوں گے مگر انہوں نے تحریک کی کہ آپ مطال پ مطالبہ کریں کہ جو چندے آ لہ جو چندے آتے ہیں وہ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل ہی آتے ہیں اس لئے ان میں سے ہمارا حصہ مقرر ہونا چاہئے ۔ میں اُس وقت بچہ تھا مگر یہ مشورہ مجھے اتنا برا معلوم ہوا کہ میں نے کمرہ کے باہر ٹہلنا شروع کر دیا کہ جو نہی مجھے موقع ملے میں والدہ سے اس کے متعلق بات کروں اور جب موقع ملا میں نے کہا کہ یہ چندے کیا ہماری جائیداد تھی یہ تو خدا تعالیٰ کے دین کے لئے ہیں ان میں سے حصہ لینے کا کسی کو کیا حق ہے؟ پھر بعض لوگ ایسے تھے کہ جو یہ مشورہ کر رہے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے لئے گزارہ مقرر کرنا چاہئے ۔ چنانچہ ایک دوست نے مجھ سے آ کر کہا کہ ہم نے یہ تجویز کی ہے کہ آپ کو گزارہ دیا جائے ۔ میں نے کہا کہ ہم اس کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ ہم بندوں کے محتاج کیوں ہوں؟ اس وقت ہماری جائیداد بھی پراگندہ حالت میں تھی کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی طرف توجہ نہ کی تھی اور بظاہر گزارہ کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی مگر میرے نفس نے یہی کہا کہ جو خدا انتظام کرے گا اُسی کو منظور کروں گا۔ بندوں کی طرف تجہ نہ کروں گا۔ میرا جواب سُن کر اُس دوست نے کہا کہ پھر آپ لوگوں کے گزراہ کی کیا صورت ہو گی ؟ میں نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ کا منشاء زندہ رکھنے کا ہوگا تو وہ خود انتظام کر دے گا