خطبات محمود (جلد 20) — Page 500
خطبات محمود ۵۰۰ سال ۱۹۳۹ ء وراء الورٹی ہے اس لئے مادی اسباب سے ہم تک پہنچنا ناممکن ہے۔ اس پر وہ پوچھیں گے کہ پھر اس سے تعلق اور وابستگی پیدا کرنے کا کونسا ذریعہ ہے؟ تو اُس کا جواب یہ دینا کہ اجيب دعوة الداع یعنی صرف دن کو بھوکا پیاسا رہنے سے روزہ مکمل نہیں ہوتا بلکہ روزہ رات کی دُعاؤں سے مکمل ہوتا ہے۔ روزہ صرف اسی کا نام نہیں کہ دن کو تم کچھ کھاتے پیتے نہیں بلکہ اس کی تکمیل کے لئے ضروری ہے کہ راتوں کو اُٹھ کر خدا تعالیٰ کے حضور تم چلا ؤ ، زاری کرو۔ پس جو میرے قرب سے فائدہ اُٹھانے کا ذریعہ دریافت کرتا ہے اُسے بتا دو کہ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاء جو راتوں کو اُٹھ کر روتا ہے میں اُس کی طرف آتا ہوں ۔ دعوة الداع میں ہر پکارنے والا مراد نہیں بلکہ وہ روزہ دار پکارنے والا ہے جو راتوں کو اُٹھ کر خدا نے واُٹھ کر خدا تعالیٰ کے حضور چلاتا ہے ۔ اسی طرح ایسا پکارنے والا مراد ہے جس میں خدا تعالیٰ سے ملنے کا اضطراب ہوتا ہے اُسے ملنے کے لئے وہ دن کو روزے رکھتا ہے اور راتوں کو جاگ کر گریہ وزاری کرتا ہے ۔ایسے پُکارنے والے کی دُعا کو اللہ تعالی سنتا ہے۔ یہ بالکل افتراء اور جھوٹ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کی ہر دُعا کو سنتا ہے۔ کئی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نے بڑے اضطراب سے دُعائیں کیں مگر وہ قبول نہیں ہوئیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں ہر دُعا سنتا ہوں لیکن یہ بھی غلط ہے، جھوٹ ہے اور افتراء ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر دعا کو ضرور سنتا ہے یا یہ کہ وہ ہر پکارنے والے کی دُعا کو سنتا ہے۔ بے شک الداعر کے معنے ہر پکارنے والے کے بھی ہو سکتے ہیں مگر اس کے معنے ایسے پکارنے والے کے بھی ہو سکتے ہیں جس کا ذکر ہو رہا ہے اور اس جگہ اس کے یہی معنے ہیں اور مراد یہ ہے کہ وہ بندے جو مجھے ملنے کے اضطراب میں اور سب کچھ بھول جاتے ہیں اور مجھے مانگتے ہیں میں ان ادعا سنتا ہوں ۔ چنانچہ اس جگہ وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عني فرمایا ہے یعنی میرے بارہ میں سوال کرتے ہیں ۔ روٹی مانگنے کا کہیں ذکر نہیں ہے ، نوکری کا کہیں ذکر نہیں ہے ، عني فرمایا ہے عَنِ الخُبْزِ يَا عَنِ الْوَظِيفَةِ نہیں فرمایا کہ جو روٹی یا نوکری مانگے ۔ اس کی دُعا میں ضرور سنتا ہوں ۔ پس جو خدا تعالیٰ کو مانگے اور وہ نہ ملے تو اسے اعتراض ہو سکتا ہے نیز اس آیت کی عبارت ایسی ہے کہ اس سے اضطراب کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔ بعض مضامین الفاظ سے ظاہر نہیں ہوتے بلکہ عبارت میں پنہاں ہوتے ہیں اور یہی حالت یہاں ہے۔ یہاں الداء کی