خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 471

خطبات محمود ۴۷۱ سال ۱۹۳۹ء عذاب نبی کی موجودگی میں آ سکتے ہیں اور بعض قسم کے عذاب نبی کی موجودگی میں نہیں آ سکتے۔گویا ہمیں عذاب کی تقسیم کرنی پڑے گی۔اس امر کو سامنے رکھ کر جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں کی معلوم ہوتا ہے کہ عذاب دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک عذاب شخصی ہوتے ہیں مثلاً کوئی دشمن شرارت میں بڑھ جاتا ہے تو وہ ہلاک کر دیا جاتا ہے۔اس قسم کے عذاب نبیوں کی موجودگی میں اور ان کے سامنے اکثر آتے رہتے ہیں اور اس کا کوئی تعلق نبی کی موجودگی یا غیر موجودگی سے نہیں ہوتا۔ایک فرد کے ساتھ یہ عذاب مخصوص ہوتا ہے اور اس کے عذاب میں مبتلا ہونے سے نبی پر حرف نہیں آتا بلکہ اس کی پیشگوئیاں پوری ہوتی ہیں لیکن اس شخصی عذاب کے علاوہ ایک قومی عذاب ہو ا کرتا ہے۔اس قومی عذاب میں سے بھی ایک قسم کا عذاب نبی کی موجودگی میں آ سکتا ہے مگر ایک قسم کا نہیں آ سکتا۔مثلاً ایسا عذاب جس میں ساری قوم کی تباہی مقصود نہ ہو وہ نبی کی موجودگی میں بھی آجاتا ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کی طاعون کی خبر دی۔اے اب یہ ایک قومی عذاب ہے جس کا خطرہ ہر شخص کو ہو سکتا ہے یا زلزلہ ہے یہ بھی ایک قومی عذاب ہے اس میں بھی ہر شخص کو یہ خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں میرا مکان نہ گر جائے لیکن زلزلہ کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اس کے آنے پر تمام لوگ مر جائیں یا طاعون کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اگر وہ کہیں پھوٹے تو ایک متنفس کو بھی جیتا نہ چھوڑے۔بڑی بڑی تباہیاں آتی ہیں جن سے سینکڑوں لوگ مر جاتے ہیں مگر ہزاروں بیچ بھی جاتے ہیں۔تم کبھی یہ نہیں دیکھو گے کہ کہیں طاعون پڑے اور تم لوگوں کو تعجب سے یہ کہتے سنو کہ فلاں جگہ طاعون پڑی اور اتنے لوگ بچ گئے بلکہ تم اس بات پر تعجب کا اظہار کرتے دیکھو گے کہ فلاں جگہ طاعون پڑی اور آدھے لوگ مر گئے۔گویا مرنے والوں پر تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے۔بچنے والوں پر تعجب کا اظہار نہیں کیا جاتا کیونکہ یہ ایک عام بات ہے کہ تمام لوگ کبھی نہیں کرتے کچھ نہ کچھ حصہ ضرور بچ جاتا ہے۔ساری بستی کے لوگ مرتے آجتک کبھی نہیں دیکھے گئے۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ بعض بستیاں بالکل اُجڑ جائیں مگر وہ اس لئے نہیں اُجڑ تیں کہ اس میں رہنے والے تمام لوگ مر جاتے ہیں۔بلکہ اس لئے اُجڑتی ہیں کہ پچاس، ساٹھ یا سو مر جاتے ہیں اور باقی ڈر کے مارے ادھر ادھر بھاگ جاتے ہیں۔بٹالہ کے قریب ہی دو تین میل ادھر ایک گاؤں تھا جو طاعون کے حملہ سے بالکل اُجڑ گیا۔