خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 468 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 468

خطبات محمود ۴۶۸ سال ۱۹۳۹ ء رکھا کرتے ہیں کہ ان کے دائیں بائیں اچھے سپاہی ہوں تا کہ جب وہ دشمن کی صفوں میں گھس جائیں تو اُن کی پیٹھ کی دشمن کے حملہ سے حفاظت ہو سکے ۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے بھی اسی خیال سے اپنے دائیں بائیں دیکھا اور جب انہیں نظر آیا کہ ان کے دائیں بائیں کوئی مضبوط سپاہی نہیں بلکہ دو پندرہ پندرہ سال کے ناتجربہ کارلڑ کے ہیں تو اُن کا دل بیٹھ گیا اور اُنہوں نے کہا افسوس آج میں کچھ نہیں کر سکوں گا کیونکہ میرا دایاں اور بایاں پہلو مضبوط نہیں۔ وہ کہتے ہیں یہ خیال ابھی میرے دل میں آیا ہی تھا کہ دائیں طرف سے میرے پہلو میں ایک کہنی لگی ۔ میں نے مڑ کر دائیں طرف کے لڑکے کی طرف دیکھا اور کہا تم کیا کہتے ہو؟ وہ نہایت آہستگی سے تا کہ اُس کا دوسرا ساتھی سُن نہ لے کہنے لگا چچا وہ ابو جہل کونسا ہے جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑے دُکھ دیا کرتا ہے؟ آج میں نے نیت کی ہوئی ہے کہ اُسے قتل کروں گا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف کہتے ہیں اُس کا یہ فقرہ سُن کر میں حیران رہ گیا اور حیرت زدہ ہو کر اُس کا منہ دیکھنے لگ گیا مگر ابھی میری اس حیرت کا اثر دور نہیں ہوا تھا کہ مجھے بائیں طرف سے کہنی لگی ( وہ کہنی اِس لئے مارتے تھے تا کہ ایک کی بات دوسرا ساتھی نہ سُن سکے ) حضرت عبدالرحمن بن عوف کہتے ہیں میں نے اپنا منہ دوسری طرف پھیرا اور پوچھا کیا بات ہے؟ اُس پر اُس طرف جو لڑکا کھڑا تھا اُس نے آہستگی سے میرے کان میں کہا چچا وہ ابوجہل کونسا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دکھ دیا کرتا ہے؟ میری بڑی خواہش ہے کہ میں اُس کو قتل کروں ۔ وہ کہتے ہیں میں ان دونوں کی یہ بات سُن کر حیران رہ گیا اور میں نے اپنے دل میں کہا کہ میں ان کے متعلق کیا خیال کر رہا تھا اور یہ کس نیت اور کس ارادے کے ماتحت یہاں آئے ہوئے ہیں۔ میں تو یہ سمجھ رہا تھا کہ یہ میری پیٹھ بھی نہیں بچاسکیں گے اور ان کی نیت وہ ہے جس کا میں بھی اپنے دل میں خیال نہیں لا سکتا کیونکہ ابو جہل کمانڈ رانچیف تھا اور وہ قلب لشکر میں ساز و سامان سے مسلح سپاہیوں کے پہرہ میں کھڑا تھا اور اُس تک پہنچنا نہایت ہی دشوار تھا۔ بہر حال وہ کہتے ہیں میں نے خاموشی اور حیرت کے ساتھ اپنی انگلی اُٹھائی اور کہا وہ جس کے سامنے دونہایت تنومند اور مضبوط نوجوان ننگی تلواریں لئے پہرہ دے رہے ہیں وہ ابو جہل ہے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف کہتے ہیں یہ فقرہ میری زبان سے نکلا ہی تھا کہ جس طرح باز چڑیا پر