خطبات محمود (جلد 20) — Page 449
خطبات محمود ۴۴۹ ۲۹ سال ۱۹۳۹ء روزوں کے متعلق نہ بے جا تشد داختیار کیا جائے اور نہ بے جانرمی فرموده ۲۰ را کتوبر ۱۹۳۹ء ) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- - چھ دن سے وہ مہینہ شروع ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے کہ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ یعنی رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم اُتارا، یا جس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو اُتارا۔ جیسا کہ میں کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں تاریخ سے یہ امر ثابت ہوتا ہے کہ ابتدائے نزول قرآن بھی رمضان کے مہینہ میں ہوا اور ہر رمضان میں جتنا اس وقت تک نازل ہو چکا ہوتا تھا جبرائیل دوبارہ نازل ہو کر اُس کو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دُہراتے تھے۔ کے اس روایت کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ سارا قرآن ہی رمضان میں نازل ہوا بلکہ کئی حصّے متعدد بار نازل ہوئے یہاں تک کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نبی مبعوث ہونے کے بعد اگر تئیس رمضان آئے تو بعض آیات ایسی تھیں جو تئیس بار نازل ہوئیں، بعض بائیس بار نازل ہوئیں، بعض اکیس بار اور بعض میں بار ۔ اسی طرح جو آیات آخری سال نازل ہوئیں وہ دو دفعہ دہرائی گئیں کیونکہ جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آپ کی حیات طیبہ