خطبات محمود (جلد 20) — Page 442
خطبات محمود ۴۴۲ سال ۱۹۳۹ء کہنے لگے وہ کیا ؟ میں نے کہا غلطی یہ ہوئی کہ آپ نے بھی ریل کا ٹکٹ لے لیا اور میں نے بھی۔وہ امرتسر آ رہے تھے اور میں بٹالہ آ رہا تھا۔) اگر اس مسئلہ کا پہلے علم ہوتا تو نہ ہم تانگے پر کرایہ خرچ کرتے نہ ریل کا ٹکٹ مول لیتے۔جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں پہنچانا ہی تھا تو وہ آپ کو امرتسر پہنچا دیتا اور مجھے قادیان پہنچا دیتا۔ہمیں ٹکٹ پر روپیہ خرچ کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ وہ کہنے لگے تدبیر بھی تو ہوتی ہے۔میں نے کہا بس اسی اسباب کی رعایت کی وجہ سے مجھے بھی میوہ کھانے کی میں عذر تھا تو جب انسان کا ذاتی سوال ہو اُس وقت اُسے ہزاروں قسم کی تدبیریں یاد آ جاتی ہیں مگر جب خدا تعالیٰ کے دین کا معاملہ ہو تو انسان نہایت بے تکلفی سے کہہ دیتا ہے کہ مجھے تدبیر سے کام لینے کی کیا ضرورت ہے؟ اللہ خود کرے گا۔اس میں کوئی طبہ نہیں کہ دین کا کام اللہ تعالیٰ نے ہی کرنا ہے اور ہمارے کام بھی دراصل وہی کرتا ہے ہم ہزاروں کام جو کرتے اور پھر کامیاب ہو جاتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کے فضل کا ہی نتیجہ ہے۔ہماری کسی کوشش کا خالصتاً اس میں دخل نہیں ورنہ ہمیں ہر کام میں کامیابی ہو لیکن کامیابی ہر بات میں نہیں ہوتی۔کسی بات میں ہو جاتی ہے اور کسی میں نہیں ہوتی۔ہزاروں لڑکے محنت کر کے پاس ہو جاتے ہیں اور ہزاروں لڑ کے محنت کرنے کے باوجود فیل ہو جاتے ہیں۔ہزاروں کوشش کرتے ہیں اور انہیں عزت مل جاتی ہے اور ہزاروں عزت کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر وہ پہلے سے بھی زیادہ ذلیل ہو جاتے ہیں۔تو تمام کام اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ جہاں تدبیر کا تعلق ہو وہاں اگر مومن تدبیر نہیں کرتا تو خدا تعالیٰ کی طرف سے سزا نازل ہوتی ہے اور وہ اس کی گرفت اور عذاب میں آجاتا ہے۔دیکھو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس کی ایک نہایت واضح مثال حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی پیش کی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس قوم سے یہ وعدہ کیا تھا کہ کنعان کی سرزمین کا اسے مالک بنا دیا جائے گا جیسے ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ ہمیں دُنیا کا حکمران اور بادشاہ بنائے گا مگر اس کا علاج اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ جاؤ اور جنگ کرو۔اس جنگ کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی تمہیں فتح دے دے گا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو خدا تعالیٰ کا یہ حکم سنایا تو اُنہوں نے کہا اللہ تعالیٰ کا ہم سے یہ وعدہ ہے کہ وہ ہمیں کنعان کی سرزمین دے گا۔وہ اپنے ا