خطبات محمود (جلد 20) — Page 426
خطبات محمود ۴۲۶ سال ۱۹۳۹ء کو دنا، چھلانگیں لگانا، بوجھ اُٹھانا ، گولہ پھینکنا ایسی کھیلیں ہیں جو نہ صرف صحت کے لئے مفید ہیں بلکہ انسان کی عملی زندگی میں کام آنے والی ہیں مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ صحت کے لئے جو مفید ورزشیں ہیں ان کی طرف ہماری جماعت کے نوجوانوں کی توجہ بہت کم ہے اور جو کھیلیں صحت کے لئے مضر ہیں ان کی طرف بہت توجہ ہے۔پھر پی ٹی میں ملک کے سارے نوجوان حصہ لے سکتے ہیں مگر کرکٹ میں غریب لڑکے حصہ نہیں لے سکتے۔کرکٹ پر ماہواری ہر کھلاڑی کا ایک دو روپیہ خرچ آجاتا ہے اور اتنا خرچ تو غرباء اپنی تعلیم کے لئے بھی برداشت نہیں کر سکتے کھیلوں کے لئے وہ کس طرح برداشت کر سکتے ہیں۔ہمارے ملک کا ہزار ہا لڑکا سکول سے محض اس لئے اُٹھا لیا جاتا ہے کہ اُن کے والدین دو آنے یا چار آنے ما ہوا ر فیس دینے کی طاقت نہیں رکھتے۔پس جبکہ وہ دو آنے یا چار آنے ماہوار فیس نہیں دے سکتے تو وہ روپیہ دو روپیہ تک کرکٹ کے لئے کس طرح خرچ کر سکتے ہیں۔اگر کرکٹ کو صحیح طور پر کھیلا جائے تو بال روزانہ بدلنا پڑتا ہے پھر بیٹ نہایت قیمتی ہوتا ہے۔اسی طرح کرکٹ کے لئے فیلڈ کی ضرورت ہوتی ہے اگر کرکٹ کھیلنے والوں کو کچھ ایڈ بھی مل جائے تو بھی چھپیں تھیں چالیس روپے انہیں اپنے پاس سے ماہوار خرچ کرنے پڑتے ہیں اور اس طرح ڈیڑھ دور و پیہ ماہوار ہر لڑکے کو اپنے پاس سے دینا پڑتا ہے مگر پی ٹی میں کسی کا کیا خرچ آتا ہے۔ہاتھ اونچا کرو ، ہاتھ نیچا کرو، کمر نیچی کچ کرو، کمر او پر کرو، پاؤں آگے کرو، پاؤں پیچھے کرو۔بتاؤ کیا غریب سے غریب زمیندار بھی ایسا کی ہے جو اس میں حصہ نہ لے سکے۔پس اگر ان ورزشوں کو جاری کیا جائے تو ایک ادنیٰ سے ادنیٰ اور غریب سے غریب آدمی جسے گر تہ بھی میسر نہیں ہے تہہ بند بھی میسر نہیں اور جو صرف ایک لنگوٹی پہنے پھرتا ہے وہ بھی ان میں شریک ہو سکتا اور اپنی صحت کو درست کر سکتا ہے مگر تمہاری کرکٹ اور تمہاری ہاکی میں وہ کس طرح شریک ہو سکتا ہے۔یہ تو امیروں کی کھیلیں ہیں جو انہوں نے اس لئے جاری کی تھیں کہ غریب الگ رہیں اور وہ الگ۔اگر وہ کھیل میں ہمارے ساتھ شامل ہو گئے تو اس سے ہماری عزت میں فرق پڑ جائے گا۔اُنہوں نے ہی اس قسم کی کھیلوں کو رواج دیا۔پس یہ ایسی کھیلیں نہیں جنہیں کھیلا جائے صرف فزیکل ٹرینگ ہی ایسی چیز ہے جو مفید ہے اور جس میں امیر و غریب دونوں حصہ لے سکتے ہیں۔پرانے زمانوں میں مگدر ہوا کرتے تھے۔