خطبات محمود (جلد 20) — Page 425
خطبات محمود ۴۲۵ سال ۱۹۳۹ء کپ جیتا جائے حالانکہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ گوہا کی جیت کر وہ کپ لا رہے ہوتے ہیں مگر ساتھ ہی اپنی صحت کو بھی کھو رہے ہوتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں پی ٹی ہے یہ ہمارے ہاں بھی ہے مگر یہ فزیکل ٹرینگ اتنی بے تو تجھی سے ہوتی ہے کہ اس کا جو فائدہ ہے وہ لڑکوں کو حاصل نہیں ہوسکتا۔بالعموم سمجھا جاتا ہے کہ فزیکل ٹرینگ محض قانون کو پورا کرنے کے لئے ہے حالانکہ فزیکل ٹریننگ ہی صحت کو درست کرنے والی ہے۔کرکٹ اور ہا کی صحت کو درست کرنے والی چیزیں نہیں۔اسی طرح پرانے کی زمانہ میں ہوری زنکل بار پر مختلف قسم کی کھیلیں کھیلی جاتی تھیں اور وہ صحت کے لئے بے حد مفید ہوتی تھیں مگر اب ان کی طرف بھی کوئی خاص توجہ نہیں رہی۔اسی طرح اونچی چھلانگیں لگانا ، لمبی چھلانگیں لگانا ، گولہ پھینکنا، تیرنا اور رسہ کشی وغیرہ نہایت مفید کھیلیں ہیں۔مگر اب یہ تمام کھیلیں ایک ایک کر کے مفقود ہو رہی ہیں۔یہاں کے نو جوانوں کی رسہ کشی میں نے خود بھی دیکھی ہے۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا بالکل اناڑی ہیں۔جب کوئی کی میچ مقرر ہوا تو پندرہ دن پہلے اندر سے رشتہ نکالا اُس کی میل جھاڑی اور چند دن لڑکوں کو رسہ کشی کی کی مشق کرا دی۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ چونکہ رسہ کشی کا صحیح طریق انہیں آتا نہیں اس لئے جب وہ رسہ کھینچا جاتا ہے تو ایک کی ٹانگ اُدھر جا رہی ہوتی ہے اور دوسرے کا سر ادھر جھکا ہوا ہوتا ہے۔پھر جو دو فریق ہوتے ہیں ان میں سے ایک نے تو دس بارہ دن مشق کی ہوئی ہوتی ہے اور دوسرے نے پانچ سات دن۔اس لئے دس بارہ دن مشق کرنے والا فریق جیت جاتا ہے اور واہ واہ کا شور مچ جاتا ہے حالانکہ رسہ کشی میں وہ بھی اناڑی ہوتا ہے۔اب بھلا ایسے نوجوانوں کی صحت کس طرح درست رہ سکتی ہے جوفزیکل ٹریننگ میں تو حصہ نہ لیں اور ہا کی اور کرکٹ ہی کھیلتے رہیں۔پس ہاکی اور کرکٹ کو صحت کے لئے کافی سمجھنا انتہائی غلطی ہے۔ہا کی قطعی طور پر صحت پر اچھا اثر پیدا نہیں کرتی بلکہ مضر اثر پیدا کرتی ہے۔ہاکی میں ہاتھ جڑے رہتے ہیں اور سانس سینہ میں پھولتا نہیں اور اس طرح باوجود کھیلنے کے سینہ چوڑا نہیں ہوتا مگر پی ٹی سے جسم مضبوط ہوتا ہے کمر طاقتور ہوتی ہے، سینہ چوڑا ہوتا ہے اور سانس پیٹ میں اچھی طرح سمانے کی مشق ہوتی ہے جو صحت کی درستی کے لئے ضروری ہے۔اسی طرح دوڑنا،