خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 421

خطبات محمود ۴۲۱ سال ۱۹۳۹ ء کی ٹریننگ نہ دی جائے وہ وقت پر کام کی اہل ثابت نہیں ہو سکتی ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ گو ہمارے پاس حکومت نہیں اور نہ ہمارے پاس ایسے سامان ہیں جن سے کام لے کر ہم اپنے نوجوانوں کو فوجی تعلیم دلواسکیں ۔ پھر بھی اس نے ایسے سامان پیدا کر دیئے ہیں کہ ہماری جماعت کے نوجوان آسانی سے فوجی کام سیکھ سکتے ہیں اور اس طرح جرات اور بہادری کی روح ان میں قائم رہ سکتی ہے۔ یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ جس دن تمہیں حکومتیں ملیں گی اُس دن شام کو تو تم ایسی حالت میں سوؤ گے کہ تم مولوی ہو گے اور صبح اُٹھو گے تو تم جرنیل بنے ہوئے ہو گے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کے طریق کے بالکل خلاف ہے اگر تم کو شام کو کرنیل ہونے کی حیثیت میں سوؤ گے تو تمہارے متعلق یہ اُمید کی جاسکتی ہے کہ جب تم صبح اُٹھو تو تم جرنیل بنا دیئے جاؤ ۔ یا ایک شخص شام کو سپاہی کی حیثیت میں سوئے اور صبح اُٹھے تو نائک بنا دیا جائے لیکن یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ شام کو تو تم ایسی حالت میں سوؤ کہ تم فوجی کاموں میں بالکل بے تعلق ہو اور صبح تمہیں تمام علوم وفنون اور فوجی طور طریق آ جائیں ۔ پس ہمیں جو بھی جائز ذرائع فوجی تربیت اور فوجی کاموں سے دلچسپی کے میسر آئیں ۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان سے فائدہ اُٹھا ئیں تا کہ ہمارے اندر فوجی روح قائم رہے اور روز بروز اِس میں اضافہ ہوتا چلا جائے بلکہ میں سمجھتا ہوں ایک زندہ قوم کو خواہ کوئی ذاتی دلچسپی نہ ہو پھر بھی اس کا فرض ہے کہ وہ فوجی کاموں میں مہارت حاصل کرے۔ میں نے دلائل سے اس بات کو ثابت کیا ہے کہ موجودہ جنگ سے ہمارا ذاتی تعلق بھی ہے اور ہم صرف انگریزوں کے مفاد کے لئے اپنا تعاون پیش نہیں کر رہے بلکہ اپنے مفاد کے لئے اس خدمت کے لئے اپنے آپ کو تیار کر رہے ہیں ۔ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر موجودہ حالات میں تبدیلی ہوئی تو اسلام اور احمدیت کو اس سے ضعف پہنچے گا لیکن میں کہتا ہوں اگر ہمارا ذاتی مفاد کوئی بھی نہ ہو اور کہیں بھی جنگ ہو رہی ہو اور ہم اس میں شریک ہو کر فوجی تربیت حاصل کر سکتے ہوں تو ہمارا فرض ہے کہ ہم وہاں جائیں اور فوجی ٹریننگ حاصل کریں۔ دیکھو بیدار قوموں میں اس کا کتنا خیال رکھا جاتا ہے۔ سپین میں جنگ ہوئی تو اٹلی اور جرمنی نے خوب والنٹیئر جمع کر کے وہاں بھیجے ۔ اندازہ کیا جاتا ہے کہ سپین کی جنگ میں دس ہزار سے زیادہ جرمن مارا گیا