خطبات محمود (جلد 20) — Page 40
خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء لذت بھی پائیں گے، وہ اس کی حقیقت پر غور نہیں کریں گے۔مگر صحابہ جو اس بات کے مشتاق رہا کرتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چھوٹی سے چھوٹی بات سے بھی فائدہ اُٹھائیں کی اُنہوں نے جب یہ بات سنی تو وہ جن کی تین لڑکیاں تھیں وہ اس خوشی سے بیتاب ہو گئے کہ ان کی اچھی تربیت کر کے جنت کے حق دار بن جائیں گے۔مگر وہ جن کی تین لڑکیاں نہیں تھیں بلکہ دو تھیں اُن کے چہروں پر افسردگی چھا گئی اور اُنہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر کسی کی دو لڑکیاں ہوں۔آپ نے فرمایا اگر کسی کی دولڑکیاں ہوں اور وہ اِن دونوں کی اچھی تربیت کی کرے تو اُس کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت واجب ہو جاتی ہے۔جب آپ نے یہ بات فرمائی تو وہ لوگ جن کی صرف ایک لڑکی تھی وہ افسردہ اور مغموم ہو گئے اور اُنہوں نے کہا يَا رَسُول اللہ ! اگر کسی کی دولڑ کیاں نہ ہوں بلکہ صرف ایک لڑکی ہو تو وہ کیا کرے۔آپ نے فرمایا اگر کسی کی ایک ہی لڑکی ہو اور وہ اُسے اچھی تعلیم دے اور اُس کی اچھی تربیت کرے تو اُس کے لئے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت واجب ہو جاتی ہے۔کے گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نے اس حدیث کے ذریعہ یہ نکتہ ہم کو بتایا کہ قومی نیکیوں کے تسلسل کو قائم رکھنا انسان کو جنت کا کی مستحق بنا دیتا ہے۔کیونکہ جو قومی تسلسل قائم رکھتا ہے وہ دُنیا میں ہی ایک جنت پیدا کرتا ہے اور یہی قرآن کریم نے بتلایا ہے کہ جسے اس دنیا میں جنت ملی اُسے ہی اگلے جہان میں جنت ملے گی۔جو اس جہان میں اندھا رہا وہ اگلے جہان میں بھی اندھا رہے گا۔اور جو اس جہان میں آنکھوں والا ہے وہی اگلے جہان میں بھی بینا آنکھوں والا ہے۔تو جو شخص اپنی لڑکی کی اچھی تربیت کرتا ہے اُس میں دین کی محبت پیدا کرتا ہے اور اُسے خدا تعالیٰ کے احکام کا فرمانبرداری بناتا ہے وہ ایک لڑکی کی تربیت نہیں کرتا بلکہ ہزاروں نیک اور پاک خاندان پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔پس چونکہ وہ دُنیا میں نیکی کا ایک محل تیار کرتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ بھی فرما تاج ہے کہ چونکہ اس نے اسلام کے مکان کی حفاظت کا سامان مہیا کیا ہے اس لئے میں بھی قیامت کی کے دن اس کے لئے ایک عمد محل تیار کروں گا۔تو اپنی اولادوں کی مسلسل تربیت کو جاری رکھنا ایک اہم سوال ہے اور لڑکوں اور لڑکیوں میں سے لڑکیوں کی تربیت کا سوال زیادہ اہمیت رکھتا ہے مگر چونکہ لڑکیوں نے نوکریاں نہیں کرنی ہوتیں اس لئے بالعموم لوگ اُن کی تعلیم و تربیت سے