خطبات محمود (جلد 20) — Page 398
خطبات محمود ۳۹۸ سال ۱۹۳۹ء سکتے ہیں جب تک مسلمان آپس میں لڑتے رہیں۔اگر صلح ہو گئی تو ہماری خیر نہیں۔پس جس طرح بھی ہو سکے صلح نہیں ہونے دینی چاہئے۔چنانچہ اُنہوں نے صلح کو روکنے کے لئے یہ تدبیر کی کہ ان میں سے جو حضرت علیؓ کے ساتھ تھے انہوں نے حضرت عائشہ اور حضرت طلحہ و زبیر کے لشکر پر اور جو اُن کے لشکر میں تھے انہوں نے حضرت علیؓ کے لشکر پر شبخون مار دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک شور پڑ گیا اور ہر فریق نے خیال کیا کہ دوسرے فریق نے اس سے دھوکا کیا اور غداری کا ارتکاب کیا ہے۔چنانچہ دونوں طرف کا اسلامی لشکر جمع ہو گیا اور ان میں لڑائی کی شروع ہو گئی۔یہ دیکھ کر حضرت علیؓ نے کہا کہ کوئی شخص حضرت عائشہ کو اطلاع دے شائد ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اس فتنہ کو دور کر دے۔چنانچہ حضرت عائشہ اونٹ پر سوار ہو کر آئیں مگر جب اُن کا اونٹ آگے کیا گیا تو نتیجہ اور بھی خطرناک نکلا۔یعنی مفسدوں نے یہ دیکھ کر کہ ہماری تدبیر پھر رائیگاں ہونے لگی ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر تیر برسانے شروع کر دیے۔یہ دیکھ کر اسلامی لشکر سخت جوش میں آ گیا اور صحابہ اور بڑے بڑے بہادر اس اونٹ کے اِردگرد کی جمع ہو گئے۔اُس وقت ان لوگوں میں ایک شخص ما لک نامی بھی تھا جس کی بعض مؤرخ گو بڑی تعریفیں کرتے ہیں مگر مجھے تو اس شخص سے ہمیشہ نفرت محسوس ہوتی ہے۔یہی شخص تھا جس نے اپنے ساتھیوں سمیت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر حملہ کیا اور صحابہ ایک ایک کر کے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حفاظت کے لئے آگے آئے اور شہید ہوتے چلے گئے۔میں یقینی طور پر تو نہیں کہہ سکتا مگر جہاں تک مجھے یاد ہے بعض تاریخوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اس موقع پر ستر صحابہ شہید ہوئے۔آخر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے حضرت زبیر کے چھوٹے لڑکے آگے آئے اور اُنہوں نے ان مفسدوں سے لڑائی شروع کر دی۔اتفاقاً وہ لڑتے لڑتے مالک کے قریب پہنچ گئے اور فوراً اس سے چمٹ گئے۔مالک چونکہ اپنے دستہ کا افسر تھا اس لئے اُنہوں نے سمجھا کہ اگر میں نے اسے مارلیا تو بڑی کامیابی ہوگی کیونکہ باقی دستہ بھاگ جائے گا اور ہم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حفاظت کے ساتھ کسی دوسری جگہ پہنچا سکیں گے۔چنانچہ جونہی وہ مالک کے قریب پہنچے انہوں نے اُسے پکڑ لیا اور اس سے کشتی لڑنی شروع کر دی اور آخر لڑتے لڑتے یہ دونوں زمین پر گر گئے مگر ایسی صورت میں گرے کہ حضرت زبیر کے لڑکے تو رض