خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 397

خطبات محمود ۳۹۷ سال ۱۹۳۹ء ایک گولہ جس کا قطر ایک انچ یا ڈیڑھ انچ ہو وہ بعض دفعہ اس پہاڑ سے بڑا دکھائی دیتا ہے جو سینکڑوں کی میل لمبا ہوتا ہے کیونکہ پہاڑ دُور ہوتا ہے اور شیشہ نے آنکھ کا احاطہ کیا ہوا ہوتا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت ہندوستان کے نوجوانوں کے دماغوں کی کیفیت اسی قسم کی ہو رہی ہے اور بالعموم ان کے دل میں یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ اگر موجودہ جنگ میں انگریزوں کو ضعف پہنچ جائے یا یہ ہار جائیں اور شکست کھا جائیں تو یہ اچھی بات ہوگی۔خواہ اس کے ساتھ ہمیں بھی نقصان پہنچ جائے کیونکہ انہوں نے ہماری آزادی چھینی تھی اور ایک غیر ملک سے آ کر ہم پر حکومت کی۔اب موقع ہے کہ انہیں ان کے کئے کی سزا ملے اور جنگ میں ان کو ضعف پہنچے۔ایسا احساس دشمنوں یا غیر قوموں کے خلاف بعض دفعہ جائز اور بعض دفعہ نا جائز ہوتا ہے۔یہ جائز ہوتا ہے اس وقت جب دشمن کی تباہی یا جس سے اس کی مخالفت ہو اس کو ضعف پہنچنا کسی اچھے انجام کا موجب ہو۔اس صورت میں وہ بے شک مارا جائے اس کی پرواہ نہیں کی جاتی مثلاً ایک شخص خدا کے رسول پر حملہ کر رہا ہے یا ایسے وجود پر حملہ کر رہا ہے جو نہایت ہی قیمتی ہے تو ایسے وقت میں اگر ہم اس کے سامنے کھڑے ہو جاتے اور اسے روکنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس جنگ کے نتیجہ میں اگر اسے مارتے ہوئے ہم خود بھی مر جائیں تو یہ ایک مستحسن فعل ہوگا کیونکہ گو دشمن کو نقصان پہنچاتے ہوئے ہم خود بھی مر جائیں گے مگر ایک قیمتی وجود بچ جائے گا۔لڑائیوں میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے۔سپاہی آفیسر ز کو بچانے کے لئے مارے جاتے ہیں اور آفیسرز اپنے سے بالا حکام کی حفاظت کے لئے جان دے دیتے ہیں۔اس کی ایک نہایت ہی عمدہ مثال اسلام کے ابتدائی زمانہ میں نظر آتی ہے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جنگ صفین کے موقع پر جب ایک طرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کا لشکر تھا اور دوسری طرف حضرت عائشہ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کا لشکر۔اور قریب تھا کہ وہ آپس میں لڑ پڑتے کہ بعض صحابہ نے درمیان میں پڑ کر بیچ بچاؤ کرا دیا۔جب یہ خبر ان لوگوں کو پہنچی جو اس فتنہ کے بانی تھے اور جن میں سے بعض حضرت علی کے لشکر میں شامل تھے اور بعض حضرت عائشہ اور حضرت طلحہ و زبیر کے لشکر میں تو انہیں سخت گھبراہٹ ہوئی اور انہوں نے اکٹھے ہو کر مشورہ کرنے کے بعد فیصلہ کیا کہ مسلمانوں میں صلح ہو جانی ہمارے لئے سخت مضر ہو گی۔کیونکہ ہم حضرت عثمان کے قتل کی سزا سے اُسی وقت تک بیچ