خطبات محمود (جلد 20) — Page 396
خطبات محمود ۳۹۶ سال ۱۹۳۹ء اُس آرام میں جو تعلیم مکمل کر لینے کے بعد طالب علم کو حاصل ہوتا ہے کیا فرق ہے؟ انبیاء دُنیا میں آتے ہیں اور وہ اپنی تعلیم پیش کر کے کہتے ہیں کہ اگر اس پر عمل کرو گے تو تمہیں جنت مل جائے گی مگر دوسرے لوگ جو شرابیں پیتے ہیں، جوئے کھیلتے ہیں، بدیوں کا ارتکاب کرتے ہیں ، گالی گلوچ بکتے رہتے ہیں ، لڑائی جھگڑے پر دوسرے کا سر بھی پھوڑ دیتے ہیں جب اس قسم کی باتوں کو سنتے ہیں تو کہتے ہیں جنت تو ہمیں حاصل ہے ہم جب اپنی مرضی کے مطابق کھاتے ، مرضی کے مطابق پیتے اور مرضی کے مطابق تمام کام کرتے ہیں تو اس جنت کے علاوہ اور کونسی جنت ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے بلکہ حق یہ ہے کہ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ تم شراب چھوڑ دو، جو اترک کردو، بدیوں سے باز آ جاؤ، گالی گلوچ سے کام نہ لو اور نہ لڑائی جھگڑے پر کسی کا سر پھوڑ و تو وہ کہتے ہیں کہ ان باتوں پر عمل کرنا تو ایک دوزخ ہے ہم ان باتوں پر عمل کی نہیں کر سکتے۔جس چیز کو جنت کہا جاتا ہے وہ تم ہمیں حاصل ہے۔ہم اپنی مرضی کے مطابق تمام کام کرتے ہیں اور کسی کی حکومت برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔یہ کتنی بڑی جنت ہے جو ہمیں حاصل ہے۔گویا ان کے خیال میں اگر کوئی گالی دے تو اُس کے جواب میں اگر اُس کا کی سر نہ پھوڑ دیا جائے تو یہ ایک بے کیف زندگی ہوگی۔اسی طرح ان کے خیال میں اگر انہیں نا جائز رنگ میں اپنا مال اور اپنے اوقات استعمال کرنے سے روکا جائے تو یہ ان کے لئے بہت بڑا جہنم اور عذاب ہو گا لیکن اگر وہ اپنی مرضی کے مطابق کام کرتے رہیں تو ان کی زندگی جنت کی زندگی ہوگی۔یہ تفاوت بھی اسی وجہ سے ہوتا ہے کہ وہ اس آرام کو دیکھ کر جو انہیں ایک قریب عرصہ میں اور تھوڑے عرصہ کے لئے حاصل ہوتا ہے دھوکا کھا جاتے اور اپنی نظر کو محدود کر کے اس حقیقی جنت کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو انبیاء کی اطاعت میں انسانوں کو حاصل ہوتا ہے۔تو جو چیز قریب ہوتی ہے وہ بعید کی چیزوں کی نظروں سے اوجھل کر دیتی ہے اور قریب والی چیز خواہ کتنی چھوٹی ہو بڑی دکھائی دیتی ہے اور دُور کی چیز خواہ کتنی بڑی ہو چھوٹی نظر آتی ہے۔جیسے پہاڑ سینکڑوں میل لمبے چلے جاتے ہیں اور اونچے بھی وہ کئی کئی ہزار فٹ ہوتے ہیں مگر دُور سے دیکھنے والوں کو وہ ایسے ہی معلوم ہوتے ہیں جیسے کوئی چھوٹا سا ٹیلہ ہوتا ہے لیکن ایک پنسل جو آنکھ کے سامنے ہوتی ہے وہ خواہ کتنی ہی چھوٹی چیز ہے انسان کو بڑی دکھائی دیتی ہے۔شیشے کا