خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 390

خطبات محمود ۳۹۰ سال ۱۹۳۹ ء مرزا صاحب بڑے نیک آدمی ہیں ۔ وہ قرآن کے خلاف عمداً کوئی بات نہیں کہہ سکتے ۔ انہیں ضرور کوئی غلط نہی ہوئی ہے۔ اچھا آپ بتائیں اگر میں قرآن کریم سے سو ایسی آیتیں نکال کر لے آؤں جن سے حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات ثابت ہوتی ہو تو کیا آپ مان لیں گے ۔ وہ چونکہ مولویوں سے یہ سُنا کرتے تھے کہ سارا قرآن حضرت عیسی علیہ السلام کی حیات کے ذکر سے بھرا ہوا ہے۔ اس لئے اُنہوں نے سمجھا کہ سو آیتیں تو ایسی ضرور ہوں گی جن سے ان کی زندگی ثابت ہوتی ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمانے لگے سو چھوڑ آپ ایک آیت ہی ایسی لے آئیں تو میرے لئے وہی کافی ہے اور میں حضرت مسیح کی وفات کا عقیدہ ترک کر دوں گا ۔ وہ کہنے لگے اچھا سو نہ سہی پچاس تو میں ضرور لے آؤں گا ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا میں تو کہہ چکا ہوں کہ ایک آیت بھی کافی ہے سو پچاس کی شرط کی ضرورت ہی کیا ہے۔ وہ کہنے لگے اچھا تو دس آیتیں تو میں ضرور ہی لے آؤں گا ۔ میں پہلے ہی کہتا تھا کہ مرزا صاحب قرآن کے عاشق ہیں وہ قرآن کے خلاف کوئی بات مان ہی نہیں سکتے ۔ ضرور ا نہیں کوئی غلطی لگی ہے۔ اب یہاں آکر میرے اس خیال کی تصدیق ہوگئی ہے۔ اچھا اب میں جاتا ہوں اور دس آیتیں ایسی لکھوا کر آپ کے پاس لاتا ہوں جن سے حضرت مسیح ناصری کی حیات ثابت ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ لاہور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے ملنے گئے ۔ مولوی صاحب اُس وقت مسجد میں بیٹھے ہوئے بڑے زور شور سے لافیں مار رہے تھے کہ میں نے نور الدین کو ایسی پٹخنیاں دیں ۔ وہ حدیث کی طرف آتا ہی نہیں تھا مگر میں نے اسے اس قدر پٹخنیاں دیں کہ آخر وہ حدیث کی طرف آنے پر مجبور ہو گیا ۔ دراصل بات یہ ہوئی کہ لمبی بحث سے تنگ آ کر حضرت خلیفہ اول نے یہ تسلیم کر لیا تھا کہ اچھا قرآن کے علاوہ بخاری سے بھی تائیدی رنگ میں حدیثیں پیش کی جاسکتی ہیں ۔ بس اس پر وہ بے حد خوش تھے اور بار بار کہتے تھے کہ میں نے نورالدین کو خوب پکڑا ۔ اتفاق یہ ہوا کہ ادھر وہ یہ باتیں کر رہے تھے اور اُدھر یہ حاجی صاحب جا نکلے اور کہنے لگے بس اب اس بحث مباحثہ کو ایک طرف رکھیں اور میری بات سُنیں ۔ میں قادیان گیا تھا اور میں حضرت مرزا صاحب کو منوا آیا ہوں کہ اگر قرآن سے میں دس ایسی آیتیں نکال کر لے آؤں جن سے حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی ثابت ہوتی ہو تو وہ اپنے پہلے عقیدہ کو ترک