خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 39

خطبات محمود ۳۹ سال ۱۹۳۹ ء پس ہم میں سے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اپنی آئندہ نسلوں تک اسلام کی تعلیم کو محفوظ رکھتا چلا جائے اور در حقیقت اسی غرض کے لئے میں نے خدام الاحمدیہ کی انجمن قائم کی ہے تا جماعت ساس ہو کہ اولاد کی تربیت ان کا اہم ترین فرض ہے ہے۔ رض بیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نکتہ ایسے اعلیٰ طور پر بیان فرمایا ہے کہ اسے دیکھ کر حیرت ہوتی رتی ہے۔ ہے۔ یہ امر ہر ہر شخص شخص جانتا ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کی کی اصلاح میں سے مقدم اصلاح لڑکیوں ! کی ہوتی ہے کیونکہ وہ آئندہ نسل کی مائیں بننے والی ہوتی ہیں اور ان کا اثر اپنی اولاد پر بہت بھاری ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو قوم عورتوں کی اصلاح کی طرف توجہ نہیں کرتی اُس قوم کے مردوں کی بھی اصلاح نہیں ہوتی اور جو قوم مردوں اور عورتوں دونوں کی اصلاح کی فکر کرتی ہے وہی خطرات سے بالکل محفوظ ہوتی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکتہ کو کیا ہی لطیف پیرا یہ میں بیان فرمایا ہے ۔ آپ ایک دفعہ مجلس میں بیٹھے تھے، صحابہ آپ کے گرد حلقہ باندھے تھے۔ آپ نے فرمایا جس مسلمان کے گھر تین لڑکیاں ہوں اور وہ ان کی اچھی تعلیم و ی تعلیم و تربیه کرے تو اُس مسلمان کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت واجب ہو جاتی ہے۔ شے اب بظاہر کوئی ایسا شخص جو قومی ترقی کے اصول سے نا واقف ہو کہہ سکتا ہے کہ یہ کونسی بات ہے ۔ بھلا تین لڑکیوں کی اصلاح سے جنت مل سکتی ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ تین لڑکیوں کی تربیت کوئی ایسی اہم بات نہیں حالانکہ جو شخص تین لڑکیوں کی اچھی تربیت کرتا ہے وہ صرف تین کی ہی تربیت نہیں کرتا بلکہ ہزاروں لاکھوں اسلام کے خادم پیدا کرتا ہے ۔ کیونکہ وہ لڑکیاں اچھے لڑکے پیدا کرنے کا موجب بنیں گی اور وہ لڑکے اسلام کے لئے اچھے قربانی کرنے والے ثابت ہوں گے ۔ آجکل لوگوں کی یہ عادت ہے کہ وہ ایک کان سے بات سُنتے اور دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں ۔ مگر صحابہ پر اللہ تعالیٰ بے انتہا کرم نازل فرمائے اُن میں یہ ایک ایسی خوبی تھی کہ اسے دیکھ کر دل عش عش کر اُٹھتا ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چھوٹے سے چھوٹے فقرہ کی بھی بڑی قدر کرتے تھے۔ اب یہی روایت جو میں نے بیان کی ہے اس زمانہ کے لوگ اسے سُنیں تو اکثر ایک کان سے سُن کر دوسرے سے باہر نکال دیں گے ۔ گویا کوئی بات ہی نہیں ہوئی بلکہ ممکن ہے بعض یہ اعتراض شروع کر دیں کہ بھلا تین لڑکیوں کا جنت سے کیا تعلق؟ اور جو اس حدیث سے