خطبات محمود (جلد 20) — Page 381
خطبات محمود ۳۸۱ سال ۱۹۳۹ ء رسول اللہ کا لفظ لکھا تھا اسے اپنے ہاتھ سے مٹا دیا ہے تم سمجھ سکتے ہو کہ یہ نظارہ صحابہ کے لئے کتنا صبر آزما تھا مگر اُنہوں نے اس تکلیف کو برداشت کیا ۔ اُنہوں نے اپنے جذبات کو قربان کیا اور اس طرح ثابت کر دیا کہ ایک مسلمان کی زندگی ہر رنگ میں اپنے خدا کے لئے ہوتی ہے ۔ ہم قرآن میں بار بار خدا تعالیٰ کا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے مکالمہ پڑھتے ہیں مگر غفلت کی حالت میں اس آیت پر سے گزر جاتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ خدا تعالیٰ نے اس سوال کو کتنی اہمیت دی ہے جو اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کیا اور جس کا ذکر قرآن کریم میں اس طرح کیا گیا ہے کہ ان قَالَ لَهُ رَبُّةَ اسْلِمُ ، قَالَ اسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ لا یعنی خدا نے ابراہیم سے کہا اسلیم اور اس نے کہا اسلمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ یہاں اسلم کے معنی مسلمان ہونے کے نہیں ورنہ اس کا مفہوم یہ بنے گا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نبی پہلے ہوئے اور مسلمان بعد میں ۔ حالانکہ عام حالات میں اسلام بہت معمولی چیز ہے اور اس کے آگے انسانی ترقی کے لئے بہت سے مدارج ہیں۔ پہلے انسان صالح بنتا ہے پھر شہید بنتا ہے پھر صدیق بنتا ہے پھر نبی بنتا ہے اور پھر ان صلحاء ، شہداء اور صدیقین کے ہزاروں درجے ہیں۔ صالحین بھی ہزاروں درجے کے ہیں اور شہداء بھی ہزاروں درجے کے ہیں اور صدیق بھی ہزاروں درجے کے ہیں اور نبی بھی ہزاروں درجے کے ہیں مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام صرف نبی نہیں بلکہ ابوالانبیاء ہو جاتے ہیں اور خدا انہیں کہتا ہے اسلیم اور ابراہیم کہتا ہے اسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ پر اس جگہ اسلیم سے مراد مسلمان ہونا نہیں بلکہ اسلیم سے مراد کامل فرمانبردار ہونا ہے ۔ گویا خدا نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ اے ابراہیم تو ہمارا کامل فرمانبردار ہو جا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا خدایا میں ہو گیا۔ یہ آسلیم والا مقام وہی ہے جب نفس کے اندر جذبات پیدا ہوتے ہیں وہ خدا کے لئے قربان ہو جاتے ہیں اس کے اندر سے کوئی آواز نہیں اُٹھتی ۔ سب آوازوں کا اُٹھنا بند ہو جاتا ہے اور انسان اپنے رب ب کا کا کامل فرمانبردار ہو جاتا ہے ۔ یہ مقام کوئی معمولی مقام نہیں ہے۔ یہی وہ مقام ہے جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شخص کے اندر ایک شیطان ہوتا ہے اور میرے اندر بھی وہ شیطان ہے مگر میرا شیطان مسلمان ہو گیا ہے ہے تو اسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ