خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 380

خطبات محمود ۳۸۰ سال ۱۹۳۹ ء مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کفار کی باتیں سُنیں اور جب یہ تجویز ان کی طرف سے پیش ہوئی کہ آؤ ہم آپس میں صلح کر لیں تو آپ نے فرمایا بہت اچھا ہم صلح کر لیتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ شرط یہ ہے کہ اس سال تم عمرہ نہیں کر سکتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا اس سال ہم عمرہ نہیں کریں گے ۔ پھر اُنہوں نے کہا کہ دوسرے سال جب آپ عمرہ ہ کے کے لئے آئیں تو یہ یہ شرط شرط : ہو گی کہ آپ مکہ میں تین دن دن سے زیادہ زیادہ نہ نہ نہ ٹھہر ٹھہریں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا مجھے یہ شرط بھی منظور ہے۔ پھر اُنہوں نے کہا کہ آپ کو مسلح ہو کر مکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہ ہو گی ۔ آپ نے فرمایا بہت اچھا ہم مسلح ہو کر مکہ میں داخل نہیں ہوں گے۔ صلح کا معاہدہ طے ہو رہا تھا اور صحابہ کے دل اندر ہی اندر جوش سے اُبل رہے تھے۔ وہ غصہ سے تلملا رہے تھے مگر کچھ کر نہیں سکتے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو صلح نامہ لکھنے کے لئے مقرر کیا گیا ۔ اُنہوں نے جب یہ معاہدہ لکھنا شروع کیا تو اُنہوں نے لکھا کہ یہ معاہدہ ایک طرف تو محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے ہے اور دوسری طرف مکہ کے فلاں فلاں رئیس اور مکہ والوں کی طرف سے ہے۔ اس پر کفار بھڑک اُٹھے اور اُنہوں نے کہا ہم ان الفاظ کو برداشت نہیں کر سکتے کیونکہ ہم محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کو رسول اللہ نہیں مانتے ۔ اگر مانتے تو ان سے لڑائی کس بات پر ہوتی ۔ ہم تو ان سے محمد بن عبداللہ کی حیثیت سے معاہدہ کر رہے ہیں محمد رسول اللہ کی حیثیت سے معاہدہ نہیں کر رہے۔ پس یہ الفاظ اس معاہدہ میں نہیں لکھے جائیں گے ۔ اس وقت صحابہ کے جوش کی کوئی انتہا نہ رہی اور وہ غصہ سے کانپنے لگ گئے ۔ اُنہوں نے سمجھا اب خدا نے ایک موقع پیدا کر دیا ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی بات نہیں مانیں گے اور ہمیں ان سے لڑائی کر کے اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع مل جائے گا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ لوگ ٹھیک کہتے ہیں معاہدہ میں سے رسول اللہ کا لفظ کاٹ دینا چاہئے ۔ علی ! اس لفظ کو مٹا دو مگر حضرت علی ایسے انسان جو فرمانبرداری اور اطاعت کا نہایت ہی اعلیٰ درجہ کا نمونہ تھے ان کا دل بھی کا نپنے لگ گیا۔ ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! یہ لفظ مجھ سے نہیں مٹایا جاتا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا لاؤ مجھے کاغذ دو اور کاغذ لے کر جہاں