خطبات محمود (جلد 20) — Page 37
خطبات محمود ۳۷ سال ۱۹۳۹ء اسی طرح پیدا ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ میں سے ایک شخص کو کھڑا کیا اور اُسے وہ تمام قوتیں دیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک روحانی بیٹے میں موجود ہونی چاہئیں۔وہ آیا اور اُس نے اسلام کو اس رنگ میں مذاہب عالم پر غالب اور برتر ثابت کیا کہ اب بجائے بڑھاپے کے اس میں جوانی کے آثار ظاہر ہورہے ہیں اور دنیا ان جوانی کے آثار کو محسوس کر رہی ہے۔گجا تو وہ زمانہ تھا کہ لوگ کہتے تھے اب اسلام مٹا کہ مٹا اور گجا یہ زمانہ ہے کہ اب لوگ تسلیم کر رہے ہیں کہ اسلام حملہ آور ہو رہا ہے اور وہ مذاہب عالم کی طرف بڑھتا چلا آ رہا ہے۔ہٹلر جو جرمنی کا ڈکٹیٹر ہے اُس نے کئی سال ہوئے جبکہ ابھی وہ برسر اقتدار نہیں آیا تھا ایک کتاب لکھی تھی جس کا نام ہے میری جد و جہد اس کتاب میں اُس نے اپنے اغراض اور اپنی کچ کوششوں کے مقاصد بیان کئے ہیں۔یہ ایک نہایت عجیب اور لطیف کتاب ہے۔میں مدت سے اس کی تلاش میں تھا مگر مجھے ملتی نہ تھی۔اب تو دو تین سال سے یہ کتاب ہندوستان میں آئی ہوئی ہے مگر اتفاق یہ ہے کہ یہ کتاب مجھے نہ ملی۔اب کے جو میں لا ہور گیا تو یہ کتاب مجھے مل گئی اور میں نے اسے پڑھا۔مجھے اس کتاب کے ایک فقرہ سے گو وہ حقیقت کو ذہن میں رکھ کر لکھا گیا معلوم نہیں ہوتا ، مجھے بہت ہی مزہ آیا۔کیونکہ اس میں احمدیت کی طاقت کا اقرار کیا گیا ہے۔ہٹلر اس کتاب میں عیسائیوں کے متعلق لکھتا ہے کہ وہ سخت غلط راستہ پر چل رہے ہیں اور وہ حکومتوں کو اس بات پر مجبور کر رہے ہیں کہ وہ گر جاؤں کے معاملہ میں دخل دیں کیونکہ گر جا کے ارباب عقل سے کام نہیں لے رہے اور خواہ مخواہ حکومتوں کے معاملات میں دخل دے رہے ہیں۔وہ لکھتا ہے میری سمجھ میں نہیں آتا کہ مذہب کو سیاست کا ہتھیار کیوں بنایا گیا ہے اور بجائے اس کے کہ وہ مذہب کو مذہب کی حدود میں رکھتے اُنہوں نے اسے سیاسی قوت کے حصول کا ایک ذریعہ بنالیا ہے اور انہی اغراض کے ماتحت لاکھوں مشنری ایشیا اور افریقہ میں پھیلا رکھے ہیں تا کہ ان کو سیاسی اقتدار حاصل ہوا اور اس امر کا خیال نہیں کیا جاتا کہ کروڑوں عیسائی خود یورپ میں دہر یہ ہیں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے انہیں بچے مذہب کی اشاعت کی فکر نہیں بلکہ سیاسی طاقت کے حصول کی فکر ہے۔اگر انہیں یہی خواہش ہوتی کہ لوگوں کو بچے مذہب کا راستہ بتایا جائے تو انہیں چاہئے تھا کہ بجائے غیروں کے وہ اپنوں کی فکر کرتے۔مگر وہ اپنوں کی تو فکر نہیں کرتے اور