خطبات محمود (جلد 20) — Page 363
خطبات محمود ۳۶۳ سال ۱۹۳۹ء میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سُنا ہوا ہے کسی تفسیر کی روایت ہوگی۔بچپن میں آپ ہمیں کہانیاں سنایا کرتے تھے جن میں سے ایک یہ تھی کہ جب حضرت نوح کا طوفان آیا تو اس وقت ایک چڑیا گھونسلے کا رستہ بھول گئی۔وہاں اس کے چھوٹے چھوٹے بچے جن کو پیاس لگی ہوئی تھی وہ پانی پینے کے لئے منہ کھولتے تھے مگر پانی نیچا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ پانی اور اونچا کرو تا ان کے منہ میں پانی پہنچ جائے۔ساری دُنیا کا فرتھی اور اللہ تعالیٰ نے سب کو تباہ کر دیا تا ان بچوں کو پانی مل سکے۔یہ موازنہ ہے اس بات کا کہ جب دینی مقابلہ ہو تو خدا تعالیٰ ساری دُنیا کی بھی اتنی قیمت نہیں سمجھتا جتنی چڑیا کے بچوں کی مگر جب کی مضمون دنیوی معاملہ ہو تو وہ کہتا ہے کہ یہ بھی میرے بندے ہیں اور وہ بھی۔قرآن کریم میں اس مع کو اور جگہ بھی بیان فرمایا ہے۔چنانچہ فرمایا كُلاً تمدُّ هَؤُلاء وَهَؤُلاء کے یعنی اے مسلما نو ! تم یہ نہ سمجھو کہ ہم تمہاری ہی مدد کریں گے بلکہ دنیوی معاملہ میں ان کی بھی کریں گے جو مومن نہیں ہیں کہ تو ایسے امور میں بہت خشیت اللہ پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے مقابلہ کی نہیں۔نماز استسقاء احمدیوں نے ادا کی۔اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور کچھ بارش ہو گئی۔اس کے بعد دوسروں نے بھی ضد کی وجہ سے نماز پڑھنا چاہی مگر چونکہ انہوں نے یہ کہا کہ ہم احمدیوں کے مقابلہ کے لئے کرتے ہیں ان کی نہ سنی گئی۔اگر وہ ایسا نہ کہتے تو ممکن ہے اللہ تعالیٰ ان کی دُعا بھی سُن لیتا۔مجھے بعض احمدیوں کی طرف سے بھی ایسے خطوط ملے کہ غیر احمدیوں نے دُعا کی ہے اور ہندوؤں نے بھی کی جنگ وغیرہ کیا ہے دُعا کریں۔اللہ تعالیٰ ان کی دُعا نہ سنے۔مجھے اس سے تکلیف ہوئی اور جب مجھے غیر احمدیوں اور ہندوؤں کی نسبت یہ معلوم ہوا کہ وہ کہتے ہیں کہ اب احمدی تو دُعا کر چکے اب ہم دُعا کریں گے اور ہماری دُعاؤں سے بارش ہوگی تو مجھے اس سے بھی تکلیف ہوئی اور میں نے دل میں کہا کہ افسوس! یہ لوگ خدا تعالیٰ کی دینی نعمت سے تو محروم تھے ہی مگر دُنیوی نعمتوں کا دروازہ کھلا تھا جسے انہوں نے اس طرح بند کر لیا۔جب مجھے اس کی اطلاع ہوئی تو میں نے کہا کہ چونکہ انہوں نے مقابلہ کا رنگ اختیار کیا ہے اس لئے اب ان کی دُعا نہیں سنی جائے گی اور کی تین روز تک تو بارش نہیں ہو گی۔جب میں واپس آیا تو رستہ میں مجھے مولوی ابو العطاء صاحب ملے میں نے دریافت کیا کہ احرار نے ۲۶ / تاریخ کو دُعا کی تھی اب تک بارش تو نہیں ہوئی