خطبات محمود (جلد 20) — Page 362
خطبات محمود ۳۶۲ سال ۱۹۳۹ ء کے لئے سب مل کر دُعائیں کرو اور مقدس مقامات پر جا جا کر بیشک کر ولیکن یاد رکھو کہ خواہ تمہارے ناک بھی رگڑے جائیں اللہ تعالیٰ پھر بھی تمہاری دُعا ئیں قبول نہ کرے گا ۔ ھے۔ اسی طرح آج بھی اگر احمدیت یا دین کا سوال ہو تو ہمارے سوا دوسری اقوام کی دُعائیں ہرگز نہ سُنی جائیں گی ۔ اس کے مقابلہ میں اگر ہم دعا کریں اور ہمارے آنسو بھی نہ بہیں تو اللہ تعالیٰ ہماری دعا ئیں ضرور سنے گا ۔ اس لئے کہ ہم خدا تعالیٰ کے نام کی بلندی کے لئے کھڑے ہیں مگر وہ شیطان کے لئے لیکن جہاں کوئی دینی معاملہ نہ ہو بلکہ ایک عام عذاب دُنیا پر نازل ہو رہا ہو وہاں ہر مضطر کی دُعاسنی جائے گی ۔ ہاں اگر اضطرار یکساں ہو تو جہاں اضطرار کے ساتھ ایمان بھی مل جائے گا وہاں دُعا ز یادہ قبول ہوگی ۔ فرض کرو اضطرار کے سو نمبر ہیں اور تمہارے دُشمنوں کو وہ سو ہی نمبر حاصل ہیں اور تمہارے پاس نوے مگر تمہارے پاس ایمان ہے اور ان کے پاس نہیں تو تمہارے ایمان کے سو ساتھ مل کر ایک سو نوے ہو جائیں گے اور ان کے سو ہی رہیں گے ۔ اس لئے تمہاری زیادہ سُنی جائے گی لیکن فرض کرو کسی کے ایمان کے نمبر ستر تھے اور بیس اضطرار کے تھے ۔ کل نوے ہوئے ۔ گویا اس کی کامیابی کے نوے وجوہات ہیں لیکن اس کے بالمقابل ایک ہندو اور غیر احمدی پچانوے وجوہ لے کر خدا تعالیٰ کے سامنے جاتا ہے تو چونکہ اس کی تباہی کے خطرات زیادہ ہیں اور اس میں شدید اضطرار پیدا ہو گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی دُعا کو زیادہ قبول کرے گا ۔ پس ایسے معاملات میں خشیت اللہ کو غالب آنے دینا چاہئے ۔ تقابل کا یہ موقع نہیں ہوتا ۔ یہ کوئی کبڈی نہیں ۔ ایسے عذاب کے موقع پر کسی کو کیا خوشی ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ دوسرے کی دُعا نہ سنے ۔ مقابلہ دین کے معاملہ میں ہوتا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ غیر مومنوں کی دُعا کو نہیں سنتا ۔ کیونکہ وہ دین کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ۔ حضرت نوح علیہ السلام نے دُعا کی تھی کہ اے اللہ ! ان میں سے کسی کو بھی زندہ نہ چھوڑ۔ اگر ان کی اولادیں زندہ رہیں تو وہ بھی تجھے گالیاں دینے والی ہوں گی ۔ تو مقابلہ ایسی دُعاؤں میں ہوتا ہے مگر دُنیوی حاجات میں اللہ تعالیٰ دونوں کی دُعاسُن لیتا ہے اور اضطرار کے ساتھ ایمان کے بھی نمبر دیتا ہے اور جس کے نمبر زیادہ ہو جائیں اُسے غلبہ دے دیتا ہے۔