خطبات محمود (جلد 20) — Page 361
خطبات محمود ۳۶۱ سال ۱۹۳۹ء أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاء میں قاعدہ ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی دُعا ضرور سنی جاتی ہے مگر امن يُجِيبُ الْمُضْطَر کے یہ معنی ہیں کہ مضطر کی دُعا بھی سنی جاتی ہے ۔ یہ نہیں کہ ہر مضطر کی ہر دُعا ضرور سُنی جاتی ہے۔ یہ دنیوی امور کے متعلق ہے جو کبھی سنی جاتی ہے اور کبھی نہیں مگر یہ خیال صحیح نہیں کہ غیر مومن کی دُعا اللہ تعالٰی سُنتا ہی نہیں ۔ یہ بات قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف ہے۔ اس مسئلہ پر میں نے اس لئے زور دیا ہے کہ پچھلے دنوں بارش کی قلت کے احساس پر قادیان میں دُعائیں کی گئیں ۔ احمدیوں نے بھی نماز استسقاء پڑھی اور غیر احمد یوں نے بھی ۔ ہندوؤں نے بھی اپنے رنگ میں کیں اور میں نے دیکھا کہ اس بارہ میں بھی ایک قسم کا تقابل پیدا ہو گیا تھا۔ غیر احمدی اور ہند و چاہتے تھے کہ احمدیوں کی دُعا نہ سنی جائے اور احمدی چاہتے تھے کہ ان کی نہ سنی جائے ۔ میں حیران ہوں کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کو ٹکڑے ٹکڑے کیوں کرتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ میں ہر مضطر کی دُعا سنتا ہوں ۔ ہو سکتا ہے ایک وقت غیر احمدی زیادہ مضطر ہوں ، ایک جگہ احمدی تاجر زیادہ ہوں وہ آ کر دُعا کریں گے تو دل میں ممکن ہے ان کے یہ ہو کہ دس دن اگر اور بارش نہ ہو تو چار آنه من نرخ اور بڑھ جائے گا اور احرار میں زمیندار زیادہ ہوں ۔ ان کی فصلیں سوکھ رہی ہوں دُعا کے وقت ان کی تو چیخیں نکل رہی ہوں گی ۔ غرض ہو سکتا ہے کہ احمدی تاجر تو سمجھتے ہوں کہ اگر دس دن اور بارش نہ ہو تو چار آ نہ من کا منافع ہو گا لیکن زمیندار دیکھ رہے ہوں کہ اگر دس دن اور بارش نہ ہوئی تو چارمن کے بجائے ایک من فی ایکڑ فصل رہ جائے گی اور اس لئے ان میں اضطرار زیادہ ہو۔ اب اس قاعدہ کے مطابق ان کی دُعا ز یادہ سُنی جائے گی ۔ کیونکہ ان کے دل میں اضطرار اور تڑپ زیادہ ہے تو ایسا مقابلہ خدا تعالیٰ کی رحمانیت کو تقسیم کرنے والی بات ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے اور اس کی صفات غیر محدود طور پر ظاہر ہوتی ہیں ۔ یہ مواقع خشیت اللہ پیدا کرنے کے ہوتے ہیں نہ مقابلہ کے۔ مقابلہ دینی معاملات میں ہوتا ہے ۔ اگر کسی دینی معاملہ میں ہم بھی دُعا کریں اور احرار بھی تو اللہ تعالیٰ ان کی دُعاؤں کو ان کے منہ پر مار دے گا اور ہماری قبول کرلے گا کیونکہ ہم تو اس کے نام کی بلندی کے لئے کھڑے ہیں اور وہ شیطان کے نام کی بلندی کے لئے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مولویوں کو مخاطب کر کے لکھا ہے کہ تم اگر میرے ہلاک ہونے