خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 360

خطبات محمود ۳۶۰ سال ۱۹۳۹ ء سوزش ، تڑپ اور بے تابی پیدا ہو جائے تو ایسا انسان اللہ تعالیٰ کو پانے سے کبھی محروم نہیں رہ سکتا ۔ تو یہاں اس دُعا کا ذکر ہے یہ مومن کے لئے جو پاگلوں کی طرح بیتاب ہو کر اپنے خدا کو پکارتا ہے عشق کی کیفیت ہے جو محبوب کے لئے بیتاب کر دیتا ہے۔ مجھے یاد ہے یہاں ایک چوہڑے کو چوہڑی سے عشق تھا وہ رات دن چلاتا رہتا کہ اے میرے خدا تو مجھے اپنی فلاں محبوب سے ملا دے میں نے اُس کی آواز کو کئی بار تہجد کے وقت گاؤں کے دوسرے سرے سے ہو اور سُنا ہے۔ تو عشق میں انسان بے تاب ہو جاتا ہے اور یہ اور یہ عشق جب خدا تعالیٰ کے متعلق انسان بیتاب ہو کر کہے کہ کہاں ہے میرا خدا ؟ تو جس وقت یہ ربودگی کی حالت اور عشق کی غشی اس پر پیدا ہوا اور وہ بے تاب و بیقرار ہو کر تہذیب کے تمام دستور اور قواعد کو بھول کر پاگلوں کی طرح آواز دے کہ کہاں ہے میرا خدا ؟ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ادھر سے میں بھی چلانے لگتا ہوں کہ میں قریب ہوں ۔ جیسے بچہ بعض اوقات سوتے ہوئے یہ خیال کر کے کہ شاید میری ماں مجھ سے جدا ہو گئی ہے یا کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ کر اماں اماں چلا اٹھتا ہے تو ماں جھٹ آواز دیتی ہے کہ میرے بچے ! میں تیرے ساتھ لیٹی ہوں ۔ اسی طرح جب بندہ بے تاب ہو کر خدا تعالیٰ کو پکارتا ہے اور سوال کرتا ہے کہ ہمارا خدا کہاں ہے تو اللہ تعالیٰ اُسے انتظار اور شک میں نہیں چھوڑتا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی طرف سے گارنٹی دیتا اور کہتا ہے کہ تم میری طرف سے مختار ہو تم میری طرف سے فوراً کہہ دو کہ میں پاس ہی ہوں گھبراؤ نہیں ۔ آگے فرماتا ہے ۔ اجيب دعوة الداع اس قسم کے پکارنے والے کی آواز کو میں خود بھی سُنتا ہوں اور صرف محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے ذریعہ ہی جواب نہیں دیتا بلکہ خود بھی اس کا جواب دیتا ہوں ۔ محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے ذریعہ فوری جواب اس لئے دیا کہ اس کی تڑپ بغیر جواب کے نہ رہے مگر میں جواب صرف محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے ذریعہ ہی نہیں دیتا بلکہ خود بھی دیتا ہوں ۔ یہ تو اس آیت کے معنی ہیں دوسری آیت آمن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ سورہ نمل میں ہے۔ وہاں دیکھو پہلے بارشوں وغیرہ کا ذکر ہے اور عذاب الہی کا اور اس کا یہ مطلب ہے کہ ہندو، مسلمان ، سکھ ، عیسائی ، کافر ، مومن جو بھی مضطر ہو کر دُعا مانگے گا اور اس کا اضطرار کمال کو پہنچ جائے گا تو میں اس کی دعا کو بھی سنوں گا مگر یہاں قاعدہ نہیں ہے