خطبات محمود (جلد 20) — Page 350
خطبات محمود ۳۵۰ سال ۱۹۳۹ ء میری قوم کو ایک انعام ملا تو مجھے مل گیا۔ پس میں جماعت کے تمام دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ تحریک جدید کی ہر قسم کی قربانیوں میں حصہ لیں اور جو وعدے اُنہوں نے کئے ہوئے ہیں اُنہیں پورا کریں اور سمجھ لیں کہ یہ ایک موت ہے جس کا ان سے مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ تم میں سے کئی ہیں جو کہتے ہیں کا سے کہ ہم نے سینما نہیں دیکھا ہم مر گئے ، تم میں سے کئی ہیں جو کہتے ہیں ہم ہمیشہ ایک کھانا کھاتے ہیں ہم تو مر گئے تم میں سے کئی ہیں جو کہتے ہیں ہمیں تو ہمیشہ سادہ رہنا پڑتا ہے ہم تو مر گئے ، تم میں سے کئی ہیں جو کہتے ہیں ہمیں رات دن چندے دینے پڑتے ہیں ہم تو مر گئے ۔ میں کہتا ہوں ابھی تم زندہ ہو، میں تو تم سے حقیقی موت کا مطالبہ کرتا ہوں کیونکہ خدا یہ کہتا ہے کہ جب تم مر جاؤ گے تو پھر میں تمہیں زندہ کروں گا ۔ پس یہ موت ہی ہے جس کا میں تم سے مطالبہ کرتا ہوں اور یہ موت ہی ہے جس کی طرف خدا اور اس کا رسول تمہیں بلاتا ہے اور یاد رکھو کہ جب تم مر جاؤ گے تو اُس کے بعد خدا تمہیں زندہ کرے گا ۔ پس تم مجھے یہ کہہ کرمت ڈراؤ کہ ان مطالبات پر عمل کرنا موت ہے۔ میں کہتا ہوں یہ موت کیا اس سے بڑھ کر تم پر موت آنی چاہئے تاکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کامل احیاء تمہیں حاصل ہو ۔ پس اگر یہ موت ہے تو خوشی کی موت ہے اگر یہ موت ہے تو رحمت کی موت ہے اور بہت ہی مبارک وہ شخص ہے جو موت کے اس دروازہ سے گزرتا ہے کیونکہ وہی ہے جو خدا تعالیٰ کے ہاتھوں ہمیشہ کے لئے زندہ کیا جائے گا ۔“ الفضل ۲۲ راگست ۱۹۳۹ء ) سنن ابن ماجه - ابواب اقامة الصلوة و السنة فيهاـ باب ماجاء في المصلِّي اذا نَعَسَ الاحزاب : ۲۴ صحیح بخاری كتاب المغازى - باب غزوة الموتة من أرض الشام تاريخ الطبرى الجز الثانی صفحہ ۵۰۷_ دار المعارف بمصر ۱۹۶۱ء زیر عنوان غزوة احد۔ ه سيف الله خالد بن الوليد دراسه عسكريه تاريخيه عن معاركه و حياته الجزء الاول صفحه ۱۱۴ - مطبوع مؤسسة الرساله بیروت ۔ ۱۹۸۸ ءالطبعة السادسة صحیح بخاری کتاب المغازى باب غزوة الموتة من ارض الشام