خطبات محمود (جلد 20) — Page 346
خطبات محمود ۳۴۶ سال ۱۹۳۹ ء کے الفاظ بیان فرمائے ہیں اُس سے زیادہ موت کا خوف مسلمانوں کے ساتھ لگا ہوا ہے اور تمہارے ساتھ بھی لگا ہوا ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اب اگر تم زندگی حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کا طریق ہم تمہیں بتا دیتے ہیں اور وہ یہ کہ موتُوا تم مر جاؤ ۔ فرمایا مردہ قوم کی زندگی کی صرف ایک ہی صورت ہو ہو سکتی ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کے لئے اپنے آپ پر موت وارد کرلے ۔ ہے اور وہ یہ خدا پر ۔ پہلی موت جو تم انے نے اپنے آپ پر وارد کی تھی وہ خدا تعالیٰ کے لئے نہیں تھی بلکہ وہ موت شیطان کے لئے تھی ۔ وہ موت اپنے نفس کے لئے تھی ، وہ موت اپنی سستیوں اور کاہلیوں کے لئے تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ تم نے جو موت قبول کی تھی وہ دائمی تھی مگر فرماتا ہے اب تم دوسری موت کا بھی تجربہ کر کے دیکھ لو اور اپنے نفس کے لئے نہیں شیطان کے لئے نہیں بلکہ ہمارے لئے مر جاؤ ۔ پھر دیکھو ہم تمہیں زندہ کرتے ہیں یا نہیں ۔ کتنا لطیف استعارہ ہے جو اس جگہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ نبی ہمیشہ اسی قوم میں آتا ہے جس قوم کے متعلق دنیا یہ فیصلہ کر دیتی ہے کہ وہ مر رہی ہے اور جو مرنے والا ہو اس کی جان کی کیا قیمت ہو سکتی ہے ۔ قیمت ہمیشہ اس چیز کی ہوتی ہے جس نے رہ جانا ہو مگر جس نے ضائع ہی ہو جانا ہو اس کی کچھ بھی قیمت نہیں ہو سکتی تو یہاں ایسا لطیف تقابل کیا ہے کہ دل عش عش کر اُٹھتا ہے اور انسان حیران رہ جاتا ہے کہ کس بلندی تک مضمون کو پہنچا دیا گیا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ یہ بیان فرماتا ہے کہ ہم ہمیشہ ایسی ہی قوموں میں نبی بھیجا کرتے ہیں جن کے متعلق دنیا یہ فیصلہ کر چکی ہوتی ہے کہ وہ آج بھی کریں اور کل بھی کریں جیسے آج کل مسلمان ہیں کہ ان کے متعلق تمام دنیا کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ ایک مردہ قوم ہے۔ غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو تم مر گئے اور آج تمہاری موت اس قدر واضح اور کھلی ہے کہ ہر شخص تمہیں دیکھ کر یہی کہتا ہے کہ تم زندہ نہیں ہو سکتے مگر یہ موت تم نے اپنے نفس کی خاطر قبول کی تھی ۔ یہ موت تم نے اپنے عیش اور آرام کے لئے قبول کی تھی، یہ موت تم نے اپنی عزت کی خاطر قبول کی تھی ، یہ موت تم نے اپنی ذاتی ترقی کے لئے قبول کی تھی مگر بجائے اس کے کہ تمہیں آرام حاصل ہوتا ، بجائے اس کے کہ تمہیں عزت ملتی ، بجائے اس کے کہ تمہیں ترقی حاصل ہوتی تم موت کے قریب پہنچ گئے ہو۔ نہیں نہیں تم مر ہی گئے ہو اور دنیا متفقہ طور پر پکار اُٹھی کہ اب تم میں کوئی جان باقی نہیں رہی ۔ ہی گئے ہو اور دنیا طور پر کہا تم میں کوئی باقی رہی۔ اب بتاؤ تمہاری عزت اور تمہارے مال کی کیا قیمت ہے؟ یقیناً کچھ بھی نہیں مگر فرماتا ہے جس جسم ،