خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 341

خطبات محمود ۳۴۱ سال ۱۹۳۹ء جمع ہونے شروع ہوئے۔انہی ملاقاتیوں میں مکہ کے رؤسا اور سردارانِ قریش کے بعض لڑکے بھی تھے جو ا کٹھے ہو کر حضرت عمرؓ کو ملنے کے لئے آئے کیونکہ اس وقت حضرت عمرؓ سے ملاقات ایسی ہی تھی جیسے کوئی شاہی دربار میں پہنچ جائے۔اس وقت ساری بادشاہت حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کو ہی حاصل تھی۔پس انہوں نے بھی ایک دوسرے سے کہا کہ آؤ ہم حضرت عمرؓ سے مل آئیں۔چنانچہ وہ اکٹھے ہو کر ان کے پاس آئے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھ گئے۔حضرت عمر نے ان سے باتیں شروع کر دیں اتنے میں کوئی غریب سا صحابی آ گیا۔حضرت عمر نے ان نوجوانوں سے کہا ذرا ان کے لئے جگہ چھوڑ دیں چنانچہ وہ پیچھے ہٹ گئے اور وہ صحابی قریب ہو کر باتیں کرنے لگ گیا۔اسی اثناء میں ایک اور صحابی آ گیا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر اُن سے فرمایا کہ ذرا پیچھے ہٹ جانا وہ اور زیادہ پیچھے ہٹ گئے اور اس جگہ وہ صحابی بیٹھ گئے۔چونکہ حج کے ایام تھے اس لئے یکے بعد دیگرے کئی صحابہ آتے چلے گئے اور حضرت عمرؓ ہر صحابی کی آمد پر ان سے یہی کہتے کہ ذرا پیچھے ہٹ جانا یہاں تک کہ ہوتے ہوتے وہ جوتیوں تک جا پہنچے۔یہ صحابہ جو آئے ان میں سے بعض ان کے باپ دادا کے غلام تھے اور وہ ان پر دن رات ظلم و ستم ڈھاتے رہتے تھے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان میں سے کئی غلاموں کو اپنے پاس سے روپیہ دے کر آزاد کروایا تھا وہ تاجر تھے مگر انہوں نے اپنی تجارت تباہ کر دی اور جس قدر روپیہ تھا وہ سب غلاموں کو آزاد کروانے پر صرف کر دیا۔پھر ان میں سے بعض وہ لوگ کی تھے جو اُن کے برتن مانجا کرتے تھے۔بعض وہ تھے جو اُن کے بستر جھاڑتے ، بعض وہ تھے جو اُن کے لئے جنگل سے لکڑیاں اور ایندھن لاتے اور بعض وہ تھے جو اُن کے اونٹوں کے لئے گھاس وغیرہ لاتے۔اسی طرح ان میں ایسے لوگ بھی تھے جن کے سروں پر وہ جوتیاں مارا کرتے تھے اور ان میں وہ لوگ بھی تھے جن کی ماؤں کو اسلام لانے پر ان کی شرمگاہوں میں نیزے مار مار کر انہوں نے ہلاک کیا تھا۔غرض یہ غلام جن کو ذلیل ترین وجود سمجھا جاتا تھا باری باری اندر آئے اور ہر شخص کے آنے پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان رؤساء سے کہتے کہ ذرا پیچھے ہٹ جاؤ اور ان کو جگہ دو۔اور وہ پیچھے ہتے چلے گئے۔یہاں تک کہ جوتیوں میں جا کر بیٹھ گئے۔جب مجلس ختم ہوئی تو باہر نکل کر انہوں۔